Wednesday, 25 January 2017

Quran Ki Taleem



اے ایمان والو!
(۷)

تم اپنے گناہوں کے باعث ربّ کی رحمت سے مایُوس ہو رہے ہو۔۔۔!؟ مگر دیکھو تو، تمہارا ربّ کیا کہتا ہے:

اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿الحدید - ۱۷﴾

جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اسکی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے تمارے لئے نشانیاں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو۔

تم نے کبھی بنجر زمین دیکھی ہے۔۔۔!؟ کیسی پھٹی ہوئی سی ہوتی ہے نا۔۔۔ پپڑیاں سی جمی ہوئی ہوتی ہیں۔۔۔ اور کتنی سخت۔۔۔ کہ پیر پڑے تو اکڑ سے ٹوٹ جائے۔۔۔ پچھلی آیت میں تمہارا ربّ، دل کے سخت ہونے کا بتا رہا ہے؛ جو کہ کتاب پر عمل نہ کرنے سے ہوا۔۔۔ گویا کہ مردہ۔۔۔ اور پھر فوراً اس سے اگلی ہی آیت میں کہتا ہے؛ کہ جان رکھو، تمہارا ربّ ہی مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔۔۔ اور مردہ اور زندہ میں ایک فرق نرم اور سخت کا بھی ہوتا ہے۔۔۔ اسی طرح دل کے نرم ہونے کا مطلب اس کا زندہ ہونا ہے۔۔۔ دل اگر نرم ہو تو ربّ کا کلام سنتے ہی آنکھیں بھر آتی ہیں۔۔۔ کیُونکہ وہ آیات کو، نشانیوں کو، ریئل ٹائم میں ریلیٹ کرتا ہے۔۔۔ نرم دل میں کلام دھنستا چلا جاتا ہے؛ اور اندر تک چوٹ کرتا ہے۔۔۔ گویا کہ زندہ زمین۔۔۔ بھربھری مٹی۔۔۔ جس میں پاؤں دھرتے ہی دھنس جاتے ہیں۔۔۔ چاہے کم یا زیادہ۔۔۔ کہ یہ تو نرماہٹ پر موقوف ہے نا۔۔۔ اور پھر اسی میں سے سر سبز بیل، بوٹے نکلتے ہیں؛ جو زندگی کی علامت ہوتے ہیں۔۔۔ تمہارا ربّ کہتا ہے کہ میں ہی ہوں جو مردہ زمین کو زندگی کی طرف لوٹاتا ہے۔۔۔ تم مُجھ سے مانگو۔۔۔ جو یہ کر سکتا ہے، وہ کیا تمہارا دل نرم نہیں کر سکتا۔۔۔!؟ ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں۔۔۔ راہ دکھلائیں کسے رہروِ منزل ہی نہیں۔۔۔ مگر تم ہو کہ سمجھتے ہی نہیں۔۔۔ اپنی اسی فسق والی زندگی پر اصرار کئے بیٹھے ہو۔۔۔ پلٹتے ہی نہیں۔۔۔ تم سوچتے نہیں ہو کیا۔۔۔!؟ تم سوچتے کیوں نہیں ہو۔۔۔!؟ اور پھر، بالآخر، تمارے چناؤ کے تمام پروز اینڈ کونز، حسن و قبح، سے آگاہ کرنے کے بعد تمہارا ربّ تُمھیں سیکنڈ پرسن، مُخاطب، کے طور پر کہتا ہے۔۔۔ پروٹاگونِسٹ، مرکزی کردار، ایک دم سے تم ہو جاتے ہو ساری ماقبل کی نشانیوں کے۔۔۔ کہتا ہے؛ کہ اس نے تمہارے لئے دو ٹوک انداز میں بیان کر دیا ہے کہ فاسِقین اور مومنین کے ساتھ قیامت کے دن کیا معاملہ ہوگا۔۔۔ اور دل کے سخت ہونے کی وجہ کیا ہے۔۔۔ تاکہ تم عقل سے کام لو۔۔۔ اس نے تُمھیں گناہ نہیں گنوائے۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔  کہ جب تم گناہ کرنے لگتے ہو؛ تو سب سے پہلا فتوی تمہارا ضمیر ہی لگاتا ہے۔۔۔ اسی وجہ سے تو تمہارے ہاتھ اور آواز کانپ رہے ہوتے ہیں گناہ کرتے ہوئے۔۔۔ اسی باعث تو تم مُڑ مُڑ کر اور دائیں بائیں دیکھتے ہو۔۔۔ کہ کوئی 'دیکھ' تو نہیں رہا۔۔۔ اور پھر شاید یہی سوچ کر گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہو کہ فقط ربّ ہی تو دیکھ رہا ہے۔۔۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ وہ واقعتاً دیکھ رہا ہے۔۔۔ تم خود جانتے ہو، اور بخوبی جانتے ہو کہ گناہ کیا ہے۔۔۔ تُمھیں بتانے کی ازبس کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ کہ تم جانتے ہو۔۔۔ اور تم ہی جانتے ہو۔۔۔!

مگر نہیں۔۔۔ تم نہیں جانتے۔۔۔ کیونکہ تم جاننا ہی نہیں چاہتے۔۔۔!

#اے_ایمان_والو نمبر ۷

جاری۔۔۔ ان شاء اللہ۔۔۔!


No comments:

Post a Comment