Tuesday, 24 January 2017

  • Dukhi Shairi
  • بھول جائیں تو آج بہتر ہے
  • سلسلے قرب کے جدائی کے
  • بجھ چکیں خواہشوں کی قندیلیں
  • لٹ چکے شہر شناسائی کے
  • رائیگاں ساعتوں سے کیا لینا
  • زخم ہوں، پھول ہوں، ستارے ہوں
  • جس نے جیسے بھی دن گزارے ہوں
  • زندگی سے شکایتیں کیسی
  • اب نہیں ہیں اگر گلے تھے کبھی
  • بھول جائیں کہ ہم ملے تھے کبھی
  • بھول جائیں کہ جو ہوا سو ہوا
  • اکثر اوقات چاہنے پر بھی
  • فاصلوں میں کمی نہیں ہوتی
  • بعض اوقات بہت چاہنے والوں کی
  • واپسی سے خوشی نہیں ہوتی...!

No comments:

Post a Comment