- Dukhi Shairi
- بھول جائیں تو آج بہتر ہے
- سلسلے قرب کے جدائی کے
- بجھ چکیں خواہشوں کی قندیلیں
- لٹ چکے شہر شناسائی کے
- رائیگاں ساعتوں سے کیا لینا
- زخم ہوں، پھول ہوں، ستارے ہوں
- جس نے جیسے بھی دن گزارے ہوں
- زندگی سے شکایتیں کیسی
- اب نہیں ہیں اگر گلے تھے کبھی
- بھول جائیں کہ ہم ملے تھے کبھی
- بھول جائیں کہ جو ہوا سو ہوا
- اکثر اوقات چاہنے پر بھی
- فاصلوں میں کمی نہیں ہوتی
- بعض اوقات بہت چاہنے والوں کی
- واپسی سے خوشی نہیں ہوتی...!
No comments:
Post a Comment