صنفِ نازک کے متعلق کچهه کٹهی میٹهی باتیں - مزاحیہ تحریر
اگر دنیا میں صرف لڑکیاں ہی ہوتیں۔۔۔۔ تو یقین جانئے نہ ایٹم بم ایجاد ہوتا۔۔۔۔ نہ ہی کسی طرح کے دوسرے ویپن آف مَیس ڈسٹرکشن ۔۔۔ بلکہ ان کی جگہ "ٹِڈابم"، "چھپکلی میزائل" اور "لیزر گائیڈڈ کاکروچ میزائل" ہوتے۔۔۔۔!!! امن ہی امن ہوتا، نہ ماحول کو خطرہ، نہ دنیا کے بھسم ہونے کا ڈر۔۔!
ایک دفعہ مجھے لڑکیوں کی لڑائی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔۔۔ دو لڑکیاں صرف ایک دوسرے کے بال کھینچ رہی تھیں۔ لڑائی کے اختتام پر فاتح اور مفتوح دونوں لڑکیاں باقاعدہ ہچکیاں لے کے زاروقطار رو رہی تھیں۔
لڑکیاں گاڑی چلانے میں بہت محتاط ہوتی ہیں۔ ان کے گاڑی سڑک پر لاتے ہی دوسرے گاڑیوں والے فوراً محتاط ہو جاتے ہیں۔انہیں صرف گاڑی چلانا آتی ہے۔گاڑی کیسے چلتی ہے؟ ان کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں۔ اگر کبھی کوئی لڑکی غلطی سے انجن کا ہُڈ کھول کر اندر جھانک لے تو فوراً غش کھا کر گر پڑے۔ان کے نزدیک کاربوریڑ اور ریڈی ایٹر میں صرف سپیلنگ کا فرق ہوتا ہے۔ قارئین ! کیا آپ نے اپنی زندگی میں کسی لڑکی کو گاڑی کا ٹائر تبدیل کرتے دیکھا ہے۔۔۔۔؟ کبھی نہیں!!! کبھی دیکھیں گے بھی نہیں!!! تفصیل سے پڑھئے
ان میں حسِ مزاح کا خاصا فقدان ہوتا ہے۔ لڑکوں کے ننانویں فیصد لطیفے ان کے جُوڑے کے اوپر سے گزر جاتے ہیں۔ ان کا اپنا ایک مزاح ہوتا ہے۔ کچھ ایسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمینہ ! اللہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ !!! میں تایا جان کے گھر گئی (اب پتہ نہیں یہ ثمینہ سے مخاطب ہیں یا اللہ سے) جونہی اندر داخل ہوئی، ایک اتنا بڑا کتا آگے کھڑا تھا، میری تو جان ہی نکل گئی۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔!!!
قارئین! اللہ کو حاضر ناظر جان کر بتائیں کہ اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے؟
لڑکیوں کا محبوب مشغلہ اپنے بھائی کے لئے دلہن ڈھونڈنا ہوتا ہے۔ محض "لڑکے کی بہن ہیں" سننے کے لئے تیس چالیس گھر یونہی پھر پھرا لیتی ہیں۔ رشتے والے گھر میں ان کی "ٹور" دیکھنے والی ہوتی ہے۔ مگر جب کوئی اور لڑکی ان کا اپنا رشتہ دیکھنے کے لئے ان کے گھر آ جائے تو ان کو چھپنے کے لئے جگہ نہیں ملتی۔۔۔۔!
لڑکیوں کے بارے میں ایک غلط پروپیگنڈا یہ بھی ہے کہ یہ بولتی بہت ہیں! میں اس سے متفق نہیں ہوں۔
ایک لڑکی تو محض دوسری کو چپ کروانے کے لئے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بول لیتی ہے۔۔۔ اور دوسری پہلی کو چُپ کروانے کے واسطے مزید گھنٹہ دو گھنٹے بول لے تو آخر اس میں کیا بُرائی ہے، بھلا بتائیں؟
دوسرے ان کو یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ اگر یہ چپ ہو گئیں تو دوسروں کو سوال کرنے کا موقع مِل جائے گا۔۔۔۔ اور ظاہر ہے کسی بھی سوال کا جواب دینے کے لئے عقل درکار ہوتی ہے۔۔۔!!!
لڑکیاں بہت جلد رو دیتی ہیں۔ یہ رونا ان کے دُکھی ہونے کی علامت نہیں، دراصل یہ ایک ایکسرسائز ہے۔ سارے دکھ آنسوؤں کے راستے فوراً نکال باہر کرتی ہیں۔۔۔۔ پلک جھپکتے میں دِل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور یہ بھلی چنگی۔۔۔!!! جیسے کُچھ ہُوا ہی نہیں۔۔۔ جبکہ لڑکے بیچارے غم سینے سے لگائے برسوں سلگتے رہتے ہیں۔
خیر قارئین! لڑکیاں جیسی بھی ہیں، ہماری زندگی کے کینوس کے رنگ انہی کے دم قدم سے کِھلتے ہیں۔۔۔ ماں، بہن، بیٹی یا بیوی ہر صورت میں ہم ان کی محبتوں کے محتاج ہوتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment