اسکو سنو جو تم میں بلکتا ہے.. اسکو سہلاؤ جو تم میں سسکتا ہے.. اسکو مناؤ جو تم میں روٹھا ہے.. اپنے جھگڑے کو نہیں جانو گے تو رب سے ۔۔ خود سے مخلوق سے صلح میں کیسے آؤ گے..رب سے مدد مانگی جائے تو مشکل کچھ بھی نہیں..
وہ تم ہی میں افسردہ اور تنہا ناراض اور اداس ہے.. اس سے دوستی کرو.. کبھی بلکتی راتوں میں گُھٹتی سانسوں میں برستے اشکوں میں ایسا ہوا کہ کسی کے ساتھ کی آرزو نے توڑ کر رکھ دیا ہو. ان لمحوں میں اپنے ہی ہاتھ کو اپنے ہی ہاتھ پر دھرتے مسیحائ محسوس کی کبھی...؟
کبھی بےدردی سے اپنے اشک پونچھتے ہوئے کبھی نرمی سے انہیں چوما؟ جتنا دوسروں کے لئے ہمکتے ہو کبھی خود کے لئے وہ نرم گوشہء محبت محسوس کیا؟ خود سے مسلسل بے وفائ اور دوسروں سے نارسائ کے گلے؟ تم خود کے نہیں .. خود سے سچے نہیں تو کوئ تمہارا کیا ہو گا .. تم خود سے باوفا نہیں تو کسی سے کیا نبھاؤ گے .. تم خود سے محروم ہو تو کیا کسی کو اپنا آپ دو گے. یہی تو وجہ ہے کہ محبت کے نام پر ہوس زدہ اذیت میں ہو.. کہ تم اپنے خلاء کو دوسروں سے بھرنا چاہتے ہو.. جب کہ تمہارا سامانِ تکمیل خود تمہی میں گمشدہ ہے .. افسردہ و خفا ہے.. کیسی چپ لگادی تم نے اسے .. کہ اب یہ بس چپ ہو گیا ہے کچھ کہتا ہی نہیں....
دوسروں کو خوش کرتے کہ ظالم نفس کو پذیرائ ملے تم نے کیوں اپنے سچ کو خفا کر دیا.کیوں خود کو اصلی خزانے سے محروم کر دیا.. کن سرابوں کے پیچھے بھاگنے کا فیصلہ کیا کہ اپنی حقیقت سے محروم ہو گئے ... جھوٹا ہنسنا جھوٹا رونا جھوٹی خوشیاں جھوٹے غم کب تک.... کب سچے سکون سے رجوع کرو گے کب مجھ میں آ سمٹو گے..
خود کو دھوکہ دینا بند کرو ناں... سنو ناں.. وہ معصوم کیا کہتا ہے.. کیا کیا ظلم ڈھائے تم نے اس پر..کہ اس نے کچھ کہنا ہی چھوڑ دیا.. کیسی کیسی اذیت رقم کی اسکی روح کے دریچوں پر کہ وہاں روشنی کے روزن تاریک ہو گئے. تم خود تو کہنے کو بڑے ہو گئے .. آگے آ گئے مگر کیسے کہ اس کو تنہا پیچھے چھوڑ دیا.. اور تم کہاں آگے آئے. یہ بھی تم ہی میں نہاں تم سے ہی اور تم اس سے نگاہ چرائے کہاں کہاں چلنے لگے .. دھوکہ دیتے رہے دھوکہ کھاتے رہے.. جو دو گے پلٹ آئے گا ناں.. بتاؤ کب تک اس خودفریبی میں رہو گے. کب تک خود پر ظلم کرتے وفا کے لئے دوسروں کو تکتے رہو گے. کب اپنی قید سے خود کو آزاد کرو گے.. کب خود سے صلح خود پر رحم کرو گے.. اب ترک کرو خود سے جھوٹ.. آؤ خود سے سچے ہو جائیں.. آؤ جی بھر کر گلے مل کر رو لیں.. آؤ جی بھر کر ہنس لیں... آؤ اپنی معصومیت اور شرارتوں میں مسکرا لیں.. آؤ ان دیکھے خوف سے آزاد ہو کر ایک ہو جائیں.. آؤ ہم سچ ہو جائیں آؤ ہم محبت ہو جائیں..!
کہ سچ تو یہ ہے کہ..
الحمدللہ رب العالمین
محبت میں دوئ نہیں تہائ نہیں
محبت ہی حقیقت ہے محبت بس اکائ ہے
وہ جو روٹھ گیا تم سے تم میں
چلو اُس کو منا کے دیکھو ناں :)
تمہارا سچ تم میں ہی زندہ ہے
خود سے سچ نبھا کے دیکھو ناں!
No comments:
Post a Comment