Tuesday, 24 January 2017

سر اٹھاؤں تو جان جاتی ھے
اور جھکا لوں تو شان جاتی ھے

خامشی بھی مجھے قبول نہیں
کچھ کہوں تو زبان جاتی ھے

بد دعا تم کسی کی مت لینا
یہ سوئے آسمان جاتی ھے

موت اپنا خراج لینے کو
روح کے درمیان جاتی ھے

نقد لینے کوئی نہیں آتا
قرض دوں تو دکان جاتی ھے

اک تیری شکل دیکھ لینے سے
پورے دن کی تھکان جاتی ھے

میری ماں کا مزاج مت پوچھو
صرف باتوں سے مان جاتی ھے

No comments:

Post a Comment