Thursday, 26 January 2017

Ilm al Quran


!اے ایمان والو
(۸)


تُمہارے ذہن میں مرد و عورت کے اختلاط کی بابت سوالات پیدا ہوتے ہیں نا۔۔۔!؟ کہ ایک اسلامی معاشرے میں اس کی کیا صورت ہو۔۔۔ تو لو، دیکھو:

وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ (سکتہ) وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ ﴿القصص - ۲۳﴾

اور جب وہ مَدْيَنَْ کے پانی (کے کنویں) پر پہنچے تو انہوں نے اس پر لوگوں کا ایک ہجوم پایا جو (اپنے جانوروں کو) پانی پلا رہے تھے اور ان سے الگ ایک جانب دو عورتیں دیکھیں جو (اپنی بکریوں کو) روکے ہوئے تھیں (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: تم دونوں اس حال میں کیوں (کھڑی) ہو؟ دونوں بولیں کہ ہم (اپنی بکریوں کو) پانی نہیں پلا سکتیں یہاں تک کہ چرواہے (اپنے مویشیوں کو) واپس لے جائیں، (سکتہ) اور ہمارے والد بڑے شیخ ہیں۔

تمہارا ربّ حضرت موسی علیہ السلام کا ماجرا بیان کرتا ہے۔۔۔ کہ جب وہ مدین پہنچے، تو انھوں نے لوگوں کو اپنے جانوروں کو پانی پلاتے پایا۔۔۔ اسی لمحے جو ان کی نظر ذرا دور پڑی؛ تو کیا دیکھتے ہیں کہ دو لڑکیاں اپنے مویشیوں کو، جو کہ پانی کی اور کھنچے جا رہے ہیں، روک رہی ہیں۔۔۔ وہ ان کے پاس گئے۔۔۔ اور ان سے دریافت کیا۔۔۔ آپ دونوں کو کیا پریشانی ہے۔۔۔!؟ تو آگے سے وہ جواب دیتی ہیں۔۔۔ اور کیا خوب جواب دیتی ہیں۔۔۔ کہتی ہیں۔۔۔ ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں، حتی کہ چرواہے اپنے جانوروں کو لے جائیں۔۔۔ اور پھر۔۔۔ تمہارے ربّ نے یہاں 'سکتہ' رکھا۔۔۔ جیسے کوئی بندہ بولتے بولتے ایک لمحے کیلئے ٹھہرتا ہے۔۔۔ اور پھر یاد دہانی کراتا ہے۔۔۔ اسی طرح وہ دونوں بھی دم بھر کو ٹھہریں۔۔۔ اور پھر گویا ہوئیں۔۔۔ اور ہمارے والد صاحب ایک بڑے شیخ ہیں۔۔۔ ادھر تمہارے ربّ نے کیا ہی لطیف نکتہ بیان کیا ہے۔۔۔ لفظ شیخ عربی میں بوڑھے آدمی اور معاشرے میں عزت والے آدمی، دونوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔۔۔ اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ نبی کے ماتھے پر تو نبوت کی خبر رقم نہیں ہوتی نا۔۔۔ تو جب موسی علیہ السلام نے ان سے انکا مسئلہ دریافت کیا تو انکے جواب کے آخری حصے کے دو مطلب تھے۔۔۔ ایک تو یہ کہ ہمارا باپ بوڑھا آدمی ہے۔۔۔ اور دوسرا یہ کہ: ان دونوں کے پاس تو بس مردوں میں سے ایک جوان بندہ آیا تھا؛ جن سے بچنے کو وہ اتنی مصیبت جھیل رہی تھیں۔۔۔ تو ادھر جب ان دونوں نے اپنا مسئلہ بیان کر دیا؛ تو ساتھ ہی ذرا لحظے بھر کو رُک کر، یاد دہانی بھی کرادی۔۔۔ کہ دیکھنا۔۔۔ ذرا خیال کرنا۔۔۔ ہمارا باپ کوئی چھوٹا موٹا آدمی نہیں۔۔۔ ایک بڑا آدمی ہے۔۔۔ اگر تم نے ہمارے ساتھ کچھ غلط کرنے کی کوشش کی تو تم خود سوچ لو اپنا انجام۔۔۔ ہم کوئی لاوارث نہیں ہیں۔۔۔ پس، ذرا احتیاط کرنا۔۔۔ حضرت مُوسی علیہ السلام نے ان کے جانوروں کو پانی پلایا اور خود سائے میں جا کر لیٹ گئے۔۔۔ مگر اس سب قصہ بیانی کا مطلب کیا ہوا۔۔۔!؟ تو سُنو۔۔۔ تمہارا ربّ  بتاتا ہے کہ اگر کسی عورت کو معاشی ضروریات پورا کرنے کیلئے مجبوری میں گھر سے نکلنا ہی پڑ جائے، جو کہ نکلنا ہی پڑتا ہے؛ تو ان کا ربّ انھیں کام سے نہیں روکتا۔۔۔ مگر حد بندی کر دیتا ہے کہ اگر ایسی نوبت آ جائے تو بھی تم بالکل آزاد نہیں ہو گئی ہو۔۔۔ تم نے اپنے آپ کو مردوں سے بچانا ہے۔۔۔ جتنی مرضی ضروری بات ہو، ایک حد میں رہ کر کرنی ہے۔۔۔ زیادہ کلام نہیں کرنا۔۔۔ مردوں کو کوئی امید نہیں دلانی۔۔۔ ان سے رویّہ سخت رکھنا ہے۔۔۔ گویا مسلمان عورتوں کو سورة الاحزاب میں مردوں سے بات کے دوران 'لاتَخضَعْنَ بالْقَولِ' کا جو حکم ہے، اس کی عملی تعبیر ادھر کر دی ہے تمہارے ربّ نے۔۔۔ یعنی مردوں سے بات کرتے ہوئے عورتوں کے فطری نرم انداز میں بات نہ کرنا۔۔۔ تاکہ تم مردوں کے 'دل' میں جو 'مرض' ہے وہ پروان نہ چڑھے۔۔۔ کیونکہ تمہارا ربّ تم مردوں کو جانتا ہے۔۔۔ وہ تمہاری پِک اَپ لائنز اور ہتھکنڈوں کو خوب جانتا ہے۔۔۔ تم جاتے ہو صنفِ نازک کے پاس اور ان سے ہمدردی جِتا کر ان کے آنسو پونچھنے کا کہتے ہو اور انھیں مزید آنسو دے دیتے ہو۔۔۔ یا خود اپنے آپکو مظلوم بنا کر دکھاتے ہو تاکہ ان کے نرم دل پگھل پگھل جائیں۔۔۔ تم جاتے ہو، اور ان سے کہتے ہو: تُمھیں معلوم ہے، آج میں بہت اداس ہوں۔۔۔ اور آگے سے وہ (کہ سارے جہاں کا درد انھی کے دل میں ہے) کہتی ہیں: awww، آپ کو کیا ہو گیا۔۔۔!؟ اور پھر یہاں سے بات بہت آگے تک جاتی ہے۔۔۔ اور جب تُمھیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے یا صورتحال تمہارے قابُو سے باہر ہو جاتی ہے؛ تو تم تب بھی قطع تعلق تھوڑا ہی کرتے ہو۔۔۔ آخر ان کا دل تھوڑا ہی توڑنا چاہتے ہو تم۔۔۔ اتنے ہی خیال رکھنے والے ہوتے تو ان آبگینوں کو ایسے میلا تو نہ کرتے۔۔۔  مگر تمہارا ربّ اس صورتحال سے بچنے کا کہہ رہا ہے۔۔۔ اور کلام ایک سے نہیں، دونوں اصناف سے ہے۔۔۔ دونوں طرف عمدہ رویّہ دکھاتا ہے تمہارا ربّ۔۔۔ کیونکہ اس کا شکار تم دونوں ہوتے ہو، اور دونوں کی ذمہ داری ہے اس سے بچنا۔۔۔ اور دوسرے کو بچانا۔۔۔!

مگر نہیں۔۔۔ تم نہیں بچتے۔۔۔ کیونکہ تم بچنا ہی نہیں چاہتے۔۔۔!

#اے_ایمان_والو نمبر ۸

(جاری ہے۔۔۔ انشاء اللہ۔۔۔!)


#الحمدللہ :<

No comments:

Post a Comment