Saturday, 28 January 2017

What is sadQa? A must read pOst....

صدقہ سے متعلق
اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجھ لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں جاتا ہے تو یقینا دینے والے کو لذت، لینے والے سے کہیں زیادہ ہو گی.
کیا آپ کو صدقہ کے فوائد معلوم ہیں؟
فوائد نمبر 17، 18، 19 کو خاص توجہ سے پڑهیے گآ :-
تو سن لیں !
صدقہ دینے والے بهی اور جو اس کا سبب بنتے ہیں وہ بهی!!!
1. صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے
2. صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کهانا کهلانا ہے.
3. صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا
4. صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹهنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹهنڈک کا سامان ہے
5. میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑهاتے رہتے ہیں
6. صدقہ مصفی ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑهاتا ہے
7. صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سرور اور تازگی کا سبب ہے
8. صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا
9. صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سیئات کا کفارہ ہے
10. صدقہ خوشخبری ہے حسن خاتمہ کی، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے
11. صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہوں
12. صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے
13. خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کی مخلوق محبت کرتی ہے
14. صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے
15. صدقہ دعاوں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے
16. صدقہ بلاء(مصیبت) کو دور کرتا ہے، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے
17. صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے، کامیابی اور رزق کا سبب ہے
18. صدقہ علاج بهی ہے دوا بهی اور شفاء بهی
19. صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے، چوری اور بری موت کو روکتا ہے
20. صدقہ کا اجرملتا ہے، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں نہ ہو
☆آخری بات :
بہترین صدقہ اس وقت یہ ہے کہ آپ اس میسیج کو صدقہ کی نیت سے آگے نشر کر دیں.

Thursday, 26 January 2017

What is ZiNNa? 

Every muslim should be aware of.
A must read pOst....


، ⭕سوال: زنا کیا ہے؟

⭕جواب: اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحبت / همبستري کرے
جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کی ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلكي چھونا بھی زنا ایک حصہ ہے اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے.
حدیث اور قرآن کی آیت دیکھیے.
⭕حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا مومن (مسلم) تو کوئی زنا کر ہی نہیں سکتا.
(Bukhari Sharif، Jild: 3، Safa: 614 Hadees: 1714) i
⭕اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے اور (دیکھو) زنا کے قریب بھی نہ جانا، وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے "
(Al-quraan: Al-Isra: A-32)
⭕زنا کی سزا اور عذاب: اگر زنا کرنے والے شادی شدہ ہو تو کھلے میدان میں پتھر مارمار کر مار ڈالا جائے اور اگر كوارے ہو تو 100 کوڑے مارے جائے.
(Bukhari Sharif Jild Safa: 615/615 Hadees: 1715)
⭕آج کل دیکھنے میں آیا ہے کی اس گناہ میں بہت سے لوگ شامل ہیں، خاص کرکے اس بازار میں شامل ہے جہاں عورتیں اور مرد جاتے ہیں کس کا ہاتھ کس کو لگ رہا ہے کہا لگتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا، چاہے لڑکا ہو یا لڑكي اور پھر اس گناہ کو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو بڑی شان سے سناتے ہیں، بلكہ  ان کو بھی ایسا کرنے کی رائے دیتے ہیں.
⭕گر کوئی کنوارا لڑکا یا لڑکی کوئی غلط کام کرتا ہے
تو اس کا گناہ اس کے ماں باپ کو بھی ملتا ہے كيوكي انہوں ان کی جلد شادی نہیں کی جس کی وجہ سے وہ غلط کام کرنے لگے، اور ایک جگہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کی پاک دامن لڑکیاں، پاک دامن لڑکوں کے لئے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کی اگر آپ اچھے ہیں تو اللہ آپ کو بھی اچھی بیوی اور خراب ہیں تو سمجھ لیجیے.
⭕جو بھی غلط کام کرتا ہے اس کی قیمت اس کے بچو، ماں یا بہن کو اس دنیا میں ہی ادا کرنی پڑتی ہے، امام شافعی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کے زنا ایک قرض ہے، اگر تو یہ قرض لے گا تو تیرے گھر سے یعنی تیری بہن بیٹی سے وصول کیا جائے گا.
What is zamZam. Informative pOst...

ﺁﺏ _ ﺯﻡ _ ﺯﻡ
ﺁﺏ ﺯﻡ ﺯﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺍﻍ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻧﯽ ﭘﮍﯼ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺗﺤﻘﯿﻘﯽ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﺁﺏ ﺯﻡ ﺯﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﯽ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺭﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﭨﯿﮑﻨﺎﻟﻮﺟﯽ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﺰﯾﺪ ﻧﺌﮯ ﺭﻭﺷﻦ ﭘﮩﻠﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﮑﺸﺎﻓﺎﺕ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁ ﮔﺌﮯ۔ ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺁﺏ ﺯﻡ ﺯﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﯽ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺭﯾﺖ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﺍﺳﮑﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﭨﯿﮑﻨﺎﻟﻮﺟﯽ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺗﺤﻘﯿﻘﯽ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﮐﺌﯽ ﺩﮨﺎﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﮐﮭﻮﺝ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﺏ ﺯﻡ ﺯﻡ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﺍﺹ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ 720 ﻟﯿﭩﺮ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻣﯿﮟ 43 ﮨﺰﺍﺭ 2 ﺳﻮ ﻟﯿﭩﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﮑﮧ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﻓﭧ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺟﺎﭘﺎﻧﯽ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺗﯽ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﮨﯿﮉﻭ ﺍﻧﺴﭩﯿﭩﯿﻮﭦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺤﻘﯿﻘﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺯﻡ ﺯﻡ ﺍﯾﮏ ﻗﻄﺮﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺹ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﺏ ﺯﻡ ﺯﻡ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺯﻡ ﺯﻡ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﻄﺮﮮ ﮐﺎ ﺑﻠﻮﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﻄﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻠﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﺸﺎﺑﮩﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﯼ ﺳﺎﺋﯿﮑﻠﻨﮓ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺯﻡ ﺯﻡ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺹ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻻﺋﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ۔ ﺁﺏ ﺯﻡ ﺯﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺪﻧﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺗﻨﺎﺳﺐ ﮐﺎ ﻣﻠﯽ ﮔﺮﺍﻡ ﻓﯽ ﻟﯿﭩﺮ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﮈﯾﻢ 133 ، ﮐﯿﻠﺸﯿﻢ 96 ، ﭘﻮﭨﺎﺷﯿﻢ 43.3 ، ﺑﺎﺋﯽ ﮐﺎﺭﺑﻮﻧﯿﭧ 195.4 ﮐﻞ
ﻭﺭﺍﺋﯿﮉ 163.3 ، ﻓﻠﻮﺭﺍﺋﯿﮉ 0.72 ، ﻧﺎﺋﯿﭩﺮﯾﭧ 124.8 ﺍﻭﺭ ﺳﻠﻔﯿﭧ 124 ﻣﻠﯽ ﮔﺮﺍﻡ ﻓﯽ ﻟﯿﭩﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔ ﺁﺏ ﺯﻡ ﺯﻡ ﮐﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ 99 ﻓﭧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﺸﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﺗﮏ ﮐﺎ ﻓﺎﺻﻠﮧ 17 ﻣﯿﭩﺮ ﮨﮯ۔ ﻭﺍﺿﺢ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺗﻤﺎﻡ ﮐﻨﻮﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺟﻢ ﺟﺎﻧﺎ، ﺍﻧﻮﺍﻉ ﻭ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮐﯽ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺭﻭ ﺑﻮﺩﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﮒ ﺁﻧﺎ ﻧﺒﺎﺗﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺎﺗﯿﺎﺗﯽ ﺍﻓﺰﺍﺋﺶ ﯾﺎ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮐﮯ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﮐﺎ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻡ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺭﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﺮﺷﻤﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﺎﺋﯽ ﺟﻤﺘﯽ ﮨﮯ ﻧﮧ ﻧﺒﺎﺗﺎﺗﯽ ﻭ ﺣﯿﺎﺗﯿﺎﺗﯽ ﺍﻓﺰﺍﺋﺶ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺭﻧﮓ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺫﺍﺋﻘﮧ۔

Remove Body Hair>> Islamic Way


یہ ایک اہم مسلۃ سمجھا اس لیے آپ کیساتھ شئیر کیا 

زیر ناف بال کیسے اور کہاں تک مونڈے جائیں ؟
زیر ناف بال کہاں تک کاٹے جائیں انکی حد کیا ہے ؟ کچھ لوگ ناف سے شروع ہو کر اور آدھی آدھی رانوں تک بال صاف کرتے ہیں اور کچھ مکمل رانیں یعنی گھٹنوں تک بال صاف کر دیتے ہیں ۔ اور کچھ لوگ صرف تھوڑی سی جگہ سے بالوں کی صفائی کرتے ہیں ۔ کیا شریعت اسلامیہ نے ان بالوں کو مونڈنے کے لیے کوئی حد بھی مقرر فرمائی ہے ؟ اور بعض لوگ سرین (دبر) کے بال بھی صاف کرتے ہیں , کیا یہ بھی زیر ناف بالوں میں شامل ہیں ؟ اور آخری بات کہ ان بالوں کو صاف کرنے کے لیے بلیڈ , سیفٹی , استرا , ہیئر ریمور کریم / صابن / پاؤڈر وغیرہ میں سے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ؟ کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دے کر عند اللہ مأجور اور عند الناس مشکور ہوں ۔
الجواب بعون الوہاب
"زیر ناف" کا لفظ کنایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے حدیث میں ان بالوں کے لیے "عانہ" کا لفظ استعمال ہوا ہے جسکا اہل لغت نے ترجمہ کیا ہے "عورت کی شرمگاہ کے گرد اگنے والے بال"
"عانہ" در اصل اس ہڈی کو کہتے ہیں جس پر یہ بال اگتے ہیں. علم القابلہ میں اسکی مناسب وضاحت ہو جاتی ہے.
لہذا زیر ناف بالوں کو کاٹنے کی حد یہی ہے کہ صرف اس جگہ کے بال کاٹے جائیں جہاں عموما عورتوں کے بھی بال ہوتے ہیں. اس سے تجاوز نہ کریں (( عورت کا نام اس مسئلہ میں اس وجہ سے لیا جاتا ہے کہ مرد کے تو عموما تمام بدن پر ہی بال ہوتے ہیں جبکہ عورت کے صرف اس مخصوص حصہ پر))
یا پھر آپ اپنے پیٹ کے نچلے حصہ کو دبا کر دیکھیں تو ایک ہڈی محسوس ہوگی. بس جہاں سے اس ہڈی کا آغاز ہوتا ہے وہیں سے بال کاٹنے کی ابتداء کریں کیونکہ یہی ہڈی عانہ کہلاتی ہے اور اس پر اگنے والے بالوں کو بھی عانہ کہہ دیتے ہیں
زیر ناف (عانہ کے) بالوں کو حلق کرنے (مونڈنے) کا حکم ہے. اور یہ کام استرے یا سیفٹی سے ہی ہوتا ہے. اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والی کریمیں، پاؤڈر اور سپرے بالوں کو مونڈتے نہیں بلکہ انہیں کمزور کر کے توڑتے ہیں. جبکہ شریعت کا مطلوب انہیں مونڈنا ہے
اسی طرح بغلوں کے بالوں کو شریعت نے اکھیڑنے کا حکم دیا ہے. لہذا انہیں کھینچ کر جڑسے اکھیڑا جائے. مونڈنے کاٹنے یا توڑنے سے مقصد شریعت پورا نہیں ہوتا.
اسی طرح کچھ لوگ رانوں کے بال بھی مونڈتے ہیں جبکہ "عانہ" شرمگاہ پر اگنے والے بال اور پیٹرو کی ہڈی کے بال ہیں
رانیں نہ تو شرمگاہ ہیں اور نہ ہی پیڑو کی ہڈی
"عانہ" کی توضیح میں اہل لغت نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں :
الشعر المنبت حول فرج المرأۃ
یعنی عورت کے سامنے والی شرمگاہ کے گرد اگنے والے بال
عانہ یعنی پیڑوی کی ہڈی سے اوپر اور ناف سے نیچے کے بالوں کو ثُنہ کہا جاتا ہے
(العین ج۸ ص ۲۱۷)
سو اس میں خصیتین اور ذکر تو شامل ہیں، مقعد نہیں.
مقعد کے بالوں کو "إسب" کہتے ہیں

Improve your worth and Repo in Public. An easy way to be famous.


ایک ڈاکٹر صاحب نے مطب شروع کیا اور تھوڑے ہی دنوِں میں کامیاب ہوگیا۔ انھوں نے یہ خصوصت دکھائی کہ وہ ہر آنے والے مریض کو سلام میں پہل کرتے۔ عام طور پر ڈاکٹر لوگ اس کے منتظر ہوتے ہیں کے کہ مریض ان کو سلام کریں ۔ یہاں پر ڈاکٹر نے خود مریض کو سلام کرنا شروع کردیا۔یہ طریقہ کامیاب رہا۔ اور جلد ہی ان کا مطب خوب چلنے لگا۔
ایک دوکاندار نے دیکھا کہ گاہک کے پاس اگر کئی نوٹ ہیں تو عام طور پر وہ میلے اور پھٹے ہوئے نوٹ دوکاندار کو دیتا ہے، اور اچھے اور صاف نوٹوں کو بچا کر جیب میں رکھتا ہے۔اس سے دوکاندار نے سمجھا کہ گاہک صاف نوٹ پسند کرتا ہے،اس نے گاہک کی اس نفسیات کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس نے یہ اصول بنایا کہ جب کوئی گاہک اس سے سامان خریدے گا اور قیمت ادا کرنے کے لئے بڑا نوٹ دے گا تو وہ حساب کرتے وقت گاہک کو نئے اور صاف نوٹ لوٹائے گا۔
دوکاندار کی یہ تدبیر بظاہر معمولی اور بے قیمت تھی ۔ مگر اس نے گاہکوں کو بہت متاثر کیا۔ وہ سمجھے کہ دوکاندار ان کا بہت خیال کرتا ہے۔ دھیرےدھیرے اس نے اس معمولی تدبیر سے گاہکوں کے دل جیت لئے۔ اس کی دوکان اتنی کامیاب ہوگئی کہ ہروقت اس کے ہاں بھیڑ لگی رہتی۔
کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ اپنےاندر کوئی امتیازی خصوصیت پیدا کریں ،آپ یہ ثابت کریں کہ آپ لوگوں کہ ہمدرد ہیں۔ یہ کام کسی معمولی تدبیر سے بھی کیاجاسکتا ہے۔ حتیٰ کے چند الفاظ بولنے یا پرانے نوٹ کے بدلے نئے نوٹ دینےسے بھی....

Abortion is a Sinn. Why??


----  ﮔﻮﻧﮕﯽ ﭼﯿﺦ۔۔۔۔


     ﺍﺳﻘﺎﻁ ﺣﻤﻞ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ کیوں ﻏﻠﻂ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ،

 ﺑﺮﺍﮦ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﮐﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻨﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﺌﺮ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﯾﮟ

 ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﻦ 1984 ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ‘ – ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺭﺍﺋﭩﺲ ﭨﻮ ﻻﻳﭙﮫ ﻛﻨﻮﯾﻨﺸﻦ .‘ ﺍﺱ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺑﺮﻧﺎﺭﮈ ﻧﮯﺗﮭﯿﻨﺴﻦ ﮐﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺳﻘﺎﻁ ﺣﻤﻞ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﭩﺮﺍﺳﺎﮈ ﻓﻠﻢ ‘ﺳﺎﻟﭧ ﺳﻜﺮﻳﻢ )‘ﮔﻮﻧﮕﯽ ﭼﯿﺦ ( ﮐﺎ ﺟﻮ ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ، 
ﻭﮦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ‘ -ﺑﭽﮧ ﺩﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﻭﮦ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺑﭽﯽ ﺍﺏ 15 ﮨﻔﺘﮯ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﭼﺴﺖ ﺗﮭﯽ . ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ، ﮐﺮﻭﭦ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﺎ ﭼﻮﺳﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ. ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﻛﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮫ ﭘﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ 120 ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺩﮬﮍﮎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ.

 ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﺗﮭﺎ؛ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻭﺯﺍﺭ )ﺳﻜﺴﻦ ﭘﻤﭗ( ﻧﮯ ﺑﭽﮧ ﺩﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﻟﯿﺎ، ﻭﮦ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺑﭽﯽ ﮈﺭ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﮔﮭﻮﻡ ﮐﺮ ﺳﮑﮍ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ . ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺯﺍﺭ ﻧﮯ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺍ ﺗﮏ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮯ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺍﻣﮕﺎﻩ، ﺍﺱ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻋﻼﻗﮯ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ.
 ﮨﻢ ﺩﮨﺸﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﺍﻭﺯﺍﺭ ﺍﺱ ﻧﻨﮭﯽ- ﻣﻨﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮔﮍﻳﺎ- ﺳﯽ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ . ﭘﮩﻠﮯ ﮐﻤﺮ، ﭘﮭﺮ ﭘﯿﺮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺎﭨﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻧﮧ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺎﺟﺮ- ﻣﻮﻟﯽ ﮨﻮ 

ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﭽﯽ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﭼﮭﭩﭙﭩﺎﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ، ﺳﮑﮍ ﮐﺮ ﮔﮭﻮﻡ ﮔﮭﻮﻡ ﮐﺮ ﺗﮍﭘﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﻗﺎﺗﻞ ﺍﻭﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ. ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮈﺭ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ

 ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻦ 200 ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺟﮭﭩﻜﺘﮯ ﻭ ﻣﻨﮧ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﭼﻴﻜﮭﻨﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، 

ﺟﺴﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯﺗﮭﯿﻨﺴﻦ میں  ‘ﮔﻮﻧﮕﯽ ﭼﯿﺦ’ ﯾﺎ ‘ﺧﺎﻣﻮﺵ ﭘﮑﺎﺭ’ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ. 

ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻧﺮﺷﺲ ﻭﻳﺒﮭﺘﺲ ﻣﻨﻈﺮ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺟﺐ ﺳﮉﺳﯽ ﺍﺱ ﮐﮭﻮﭘﮍﯼ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﻼﺵ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺳﺨﺖ ﮐﮭﻮﭘﮍﯼ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ 

ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺳﺮ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺣﺼﮧ ﺑﻐﯿﺮ ﺗﻮﮌﮮ ﺳﮑﺸﻦ ﭨﯿﻮﺏ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﺎﻻ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ‘ .

 ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﺩﺑﮭﺖ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﻣﻨﭧ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﺎ 

ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﺭﺩﻧﺎﮎ ﻣﻨﻈﺮ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﺳﻘﺎﻁ ﺣﻤﻞ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺤﺾ ﻛﻮﺗﻮﻫﻠﻮﺵ ﺍﺱ ﻓﻠﻢ ﺑﻨﻮﺍ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﻓﻠﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻠﯿﻨﮏ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ !

 ﺁﭖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ . . .

Very Beautiful Romantic poem about winter


سردیوں کے بار میں دل چھو لینے والی نظم


یہ لو گرم کافی پیو
!اور ٹھہرو
ذرا شال بھی اوڑھو تم
دیکھو۔۔دیکھو ذرا ہاتھ کتنے ٹھنڈے ہیں
اور ناک بھی سرخ ہو رہی ہے
خیال نہیں رکھتی تم 
بہت بری ہو تم
اور میں یہ سب سنتے ہوئے 
خدا کا شکریہ ادا کرتی رہی
تمھیں فکر ہے جاناں
میں بے فکر ہوں جاناں

Ilm al Quran


!اے ایمان والو
(۸)


تُمہارے ذہن میں مرد و عورت کے اختلاط کی بابت سوالات پیدا ہوتے ہیں نا۔۔۔!؟ کہ ایک اسلامی معاشرے میں اس کی کیا صورت ہو۔۔۔ تو لو، دیکھو:

وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ (سکتہ) وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ ﴿القصص - ۲۳﴾

اور جب وہ مَدْيَنَْ کے پانی (کے کنویں) پر پہنچے تو انہوں نے اس پر لوگوں کا ایک ہجوم پایا جو (اپنے جانوروں کو) پانی پلا رہے تھے اور ان سے الگ ایک جانب دو عورتیں دیکھیں جو (اپنی بکریوں کو) روکے ہوئے تھیں (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: تم دونوں اس حال میں کیوں (کھڑی) ہو؟ دونوں بولیں کہ ہم (اپنی بکریوں کو) پانی نہیں پلا سکتیں یہاں تک کہ چرواہے (اپنے مویشیوں کو) واپس لے جائیں، (سکتہ) اور ہمارے والد بڑے شیخ ہیں۔

تمہارا ربّ حضرت موسی علیہ السلام کا ماجرا بیان کرتا ہے۔۔۔ کہ جب وہ مدین پہنچے، تو انھوں نے لوگوں کو اپنے جانوروں کو پانی پلاتے پایا۔۔۔ اسی لمحے جو ان کی نظر ذرا دور پڑی؛ تو کیا دیکھتے ہیں کہ دو لڑکیاں اپنے مویشیوں کو، جو کہ پانی کی اور کھنچے جا رہے ہیں، روک رہی ہیں۔۔۔ وہ ان کے پاس گئے۔۔۔ اور ان سے دریافت کیا۔۔۔ آپ دونوں کو کیا پریشانی ہے۔۔۔!؟ تو آگے سے وہ جواب دیتی ہیں۔۔۔ اور کیا خوب جواب دیتی ہیں۔۔۔ کہتی ہیں۔۔۔ ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں، حتی کہ چرواہے اپنے جانوروں کو لے جائیں۔۔۔ اور پھر۔۔۔ تمہارے ربّ نے یہاں 'سکتہ' رکھا۔۔۔ جیسے کوئی بندہ بولتے بولتے ایک لمحے کیلئے ٹھہرتا ہے۔۔۔ اور پھر یاد دہانی کراتا ہے۔۔۔ اسی طرح وہ دونوں بھی دم بھر کو ٹھہریں۔۔۔ اور پھر گویا ہوئیں۔۔۔ اور ہمارے والد صاحب ایک بڑے شیخ ہیں۔۔۔ ادھر تمہارے ربّ نے کیا ہی لطیف نکتہ بیان کیا ہے۔۔۔ لفظ شیخ عربی میں بوڑھے آدمی اور معاشرے میں عزت والے آدمی، دونوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔۔۔ اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ نبی کے ماتھے پر تو نبوت کی خبر رقم نہیں ہوتی نا۔۔۔ تو جب موسی علیہ السلام نے ان سے انکا مسئلہ دریافت کیا تو انکے جواب کے آخری حصے کے دو مطلب تھے۔۔۔ ایک تو یہ کہ ہمارا باپ بوڑھا آدمی ہے۔۔۔ اور دوسرا یہ کہ: ان دونوں کے پاس تو بس مردوں میں سے ایک جوان بندہ آیا تھا؛ جن سے بچنے کو وہ اتنی مصیبت جھیل رہی تھیں۔۔۔ تو ادھر جب ان دونوں نے اپنا مسئلہ بیان کر دیا؛ تو ساتھ ہی ذرا لحظے بھر کو رُک کر، یاد دہانی بھی کرادی۔۔۔ کہ دیکھنا۔۔۔ ذرا خیال کرنا۔۔۔ ہمارا باپ کوئی چھوٹا موٹا آدمی نہیں۔۔۔ ایک بڑا آدمی ہے۔۔۔ اگر تم نے ہمارے ساتھ کچھ غلط کرنے کی کوشش کی تو تم خود سوچ لو اپنا انجام۔۔۔ ہم کوئی لاوارث نہیں ہیں۔۔۔ پس، ذرا احتیاط کرنا۔۔۔ حضرت مُوسی علیہ السلام نے ان کے جانوروں کو پانی پلایا اور خود سائے میں جا کر لیٹ گئے۔۔۔ مگر اس سب قصہ بیانی کا مطلب کیا ہوا۔۔۔!؟ تو سُنو۔۔۔ تمہارا ربّ  بتاتا ہے کہ اگر کسی عورت کو معاشی ضروریات پورا کرنے کیلئے مجبوری میں گھر سے نکلنا ہی پڑ جائے، جو کہ نکلنا ہی پڑتا ہے؛ تو ان کا ربّ انھیں کام سے نہیں روکتا۔۔۔ مگر حد بندی کر دیتا ہے کہ اگر ایسی نوبت آ جائے تو بھی تم بالکل آزاد نہیں ہو گئی ہو۔۔۔ تم نے اپنے آپ کو مردوں سے بچانا ہے۔۔۔ جتنی مرضی ضروری بات ہو، ایک حد میں رہ کر کرنی ہے۔۔۔ زیادہ کلام نہیں کرنا۔۔۔ مردوں کو کوئی امید نہیں دلانی۔۔۔ ان سے رویّہ سخت رکھنا ہے۔۔۔ گویا مسلمان عورتوں کو سورة الاحزاب میں مردوں سے بات کے دوران 'لاتَخضَعْنَ بالْقَولِ' کا جو حکم ہے، اس کی عملی تعبیر ادھر کر دی ہے تمہارے ربّ نے۔۔۔ یعنی مردوں سے بات کرتے ہوئے عورتوں کے فطری نرم انداز میں بات نہ کرنا۔۔۔ تاکہ تم مردوں کے 'دل' میں جو 'مرض' ہے وہ پروان نہ چڑھے۔۔۔ کیونکہ تمہارا ربّ تم مردوں کو جانتا ہے۔۔۔ وہ تمہاری پِک اَپ لائنز اور ہتھکنڈوں کو خوب جانتا ہے۔۔۔ تم جاتے ہو صنفِ نازک کے پاس اور ان سے ہمدردی جِتا کر ان کے آنسو پونچھنے کا کہتے ہو اور انھیں مزید آنسو دے دیتے ہو۔۔۔ یا خود اپنے آپکو مظلوم بنا کر دکھاتے ہو تاکہ ان کے نرم دل پگھل پگھل جائیں۔۔۔ تم جاتے ہو، اور ان سے کہتے ہو: تُمھیں معلوم ہے، آج میں بہت اداس ہوں۔۔۔ اور آگے سے وہ (کہ سارے جہاں کا درد انھی کے دل میں ہے) کہتی ہیں: awww، آپ کو کیا ہو گیا۔۔۔!؟ اور پھر یہاں سے بات بہت آگے تک جاتی ہے۔۔۔ اور جب تُمھیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے یا صورتحال تمہارے قابُو سے باہر ہو جاتی ہے؛ تو تم تب بھی قطع تعلق تھوڑا ہی کرتے ہو۔۔۔ آخر ان کا دل تھوڑا ہی توڑنا چاہتے ہو تم۔۔۔ اتنے ہی خیال رکھنے والے ہوتے تو ان آبگینوں کو ایسے میلا تو نہ کرتے۔۔۔  مگر تمہارا ربّ اس صورتحال سے بچنے کا کہہ رہا ہے۔۔۔ اور کلام ایک سے نہیں، دونوں اصناف سے ہے۔۔۔ دونوں طرف عمدہ رویّہ دکھاتا ہے تمہارا ربّ۔۔۔ کیونکہ اس کا شکار تم دونوں ہوتے ہو، اور دونوں کی ذمہ داری ہے اس سے بچنا۔۔۔ اور دوسرے کو بچانا۔۔۔!

مگر نہیں۔۔۔ تم نہیں بچتے۔۔۔ کیونکہ تم بچنا ہی نہیں چاہتے۔۔۔!

#اے_ایمان_والو نمبر ۸

(جاری ہے۔۔۔ انشاء اللہ۔۔۔!)


#الحمدللہ :<

Wednesday, 25 January 2017


میرے چارہ گر (Beautiful urdu Poem )



ﻣﯿﺮﮮ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ......!
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﭗ ﮐُﮭﻠﮯ....
ﮐﮧ.........ﮨﻮﺍ ﮐﻮ ﺍﺫﻥِ ﺳﻔﺮ ﻣﻠﮯ.....!!
ﻣﯿﺮﮮ ﺯﺧﻢ ﮐﮭﻞ ﮐﮯ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﮞ.......!
ﯾﮧ ﺟﻮ ﺳﺎﻧﺲ ﺳﺎﻧﺲ ﮨﯿﮟ ﻭﺣﺸﺘﯿﮟ......
ﯾﮧ ﺳــــﺮﺍﺏ ﻭ ﺧــــﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ.....
ﯾﮧ ﺩِﯾﮯ ﮐﯽ ﻟﻮ ﺳﯽ ﺟـــــــﻮ ﺁﺱ ﮨﮯ......
ﺗﯿـــــــﺮﺍ ﺣﮑﻢ ﮨﻮ.......ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﻞ ﺑﺠﮭﮯ....... !!
ﻣﺠﮭﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺻِﻠﮧ ﻣﻠﮯ......
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮪ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﮔﺮﮦ ﮐﮭﻠﮯ.......!
ﯾﮧ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﻗﯿﺪ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ.........
ﺗﯿﺮﺍ ﯾﮧ ﮐــــــــﺮﻡ.......ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻤﯿﺎﺀ......!!
ﻧﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﻮﮞ.....!
ﻧﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮﮞ......!
ﮐﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﺧﺘﻢ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﻮﮞ...


Ideal Wife

عورت نازک ہے مگر کم ہمت نہیں۔۔۔۔



میز پہ کھانا لگاتے ہوئے اسکا پورا دھیان پلیٹیں سجانے میں تھا اور میری آنکھیں اسکے چہرے پہ جمی تھیں۔ میں نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ چونک سی گئی
"میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں" کافی ہمت جتانے کے بعد بلآخر میرے منہ سے نکلا
وہ چپ چاپ کرسی پہ بیٹھ گئی، اسکی نگاہیں چاہے میز پہ مرکوز تھیں پر ان میں سے اٹھتا درد میں بخوبی محسوس کررہا تھا۔ 
ایک پل کے لیے میری زبان پہ تالہ سا لگ گیا پر جو میرے دماغ میں چل رہا تھا اسے بتانا بہت ضروری تھا۔ 
"میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔" میری آنکھیں جھک گئیں
میری امید کے برعکس اس نے کسی قسم کی حیرانی یا پریشانی کا اظہار نہ کیا بس نرم لہجے میں اتنا پوچھا
"کیوں۔۔۔۔۔؟"
میں نے اسکا سوال نظرانداز کیا۔ اسے میرا یہ رویہ گراں گزرا۔ ہاتھ میں پکڑا چمچ فرش پہ پھینک کے وہ چلانے لگی اور یہ کہہ کے وہاں سے اٹھ گئی کہ 
"تم مرد نہیں ہو۔۔۔" 
رات بھر ہم دونوں نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔ وہ روتی رہی۔ میں جانتا تھا کہ اسکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر ہماری شادی کو ہوا کیا ہے۔۔۔ میرے پاس اس کو دینے کے لیے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ اسے کیا بتاتا کہ میرے دل میں اسکی جگہ اب کسی اور نے لے لی ہے۔۔۔ اب اسکے لیے میرے پاس محبت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس پہ ترس تو بہت آرہا تھا اور ایک پچھتاوا بھی تھا۔ پر اب میں جو فیصلہ کر چکا تھا اس پہ ڈٹے رہنا ضروری تھا۔ 
طلاق کے کاغذات عدالت میں جمع کرانے سے پہلے میں نے اس کی ایک کاپی اسے تھمائی جس پہ لکھا تھا کہ وہ طلاق کے بعد گھر، گاڑی اور میرے ذاتی کاروبار کے 30 فیصد کی مالکن بن سکتی ہے۔
اس نے ایک نظر کاغذات پہ دوڑائی اور اگلے ہی لمحے اسکے ٹکڑے کرکے زمین پہ پھینک دیے۔ جس عورت کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے دس سال بتائے تھے وہ ایک پل میں اجنبی ہوگئی۔ مجھے افسوس تھا کہ اس نے اپنے انمول جذبات اور قیمتی لمحے مجھ پہ ضائع کیے پر میں بھی کیا کرتا میرے دل میں کوئی اور اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ اسے کھونے کا تصور ہی میرے لیے ناممکن تھا۔ 
بلآخر وہ ٹوٹ کے بکھری اور میرے سامنے ریزہ ریزہ ہوگئی۔ اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ شائد یہی وہ چیز تھی جو اس طلاق کے بعد میں دیکھنا چاہتا تھا۔ 
اگلے روز پورا دن اپنی نئی محبت کے ساتھ بتا کے جب میں تھکا ہارا گھر پہنچا تو وہ میز پہ کاغذ پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ میں نے اس پہ کوئی دھیان نہ دیا اور جاتے ہی بستر پہ سو گیا۔ دیر رات جب میری آنکھ کھلی تو وہ تب بھی کچھ لکھ رہی تھی۔ اب بھی میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔ 
صبح جب میں اٹھا تو اس نے طلاق کی کچھ شرائط میرے سامنے رکھ دیں۔ اسے میری دولت اور جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ وہ بس ایک مہینہ مزید میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اس ایک مہینے میں ہمیں اچھے میاں بیوی کی طرح رہنا تھا۔ اس شرط کی بہت بڑی وجہ ہمارا بیٹا تھا جسکے کچھ ہی دنوں میں امتحانات ہونیوالے تھے۔ والدین کی طلاق کا اسکی تعلیم پہ برا اثر نہ پڑے اس لیے میں اسکی یہ شرط ماننے کو بالکل تیار تھا۔ 
اسکی دوسری اور احمقانہ شرط یہ تھی کہ میں ہرصبح اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے گھر کے دروازے تک چھوڑنے جاؤں۔ جیسا شادی کے ابتدائی دنوں میں مَیں کرتا تھا۔ وہ جب کام پہ باہر جانے لگتی تو میں خود اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑ آتا تھا۔ حالانکہ میں اسکی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن ان آخری دنوں میں اسکا دل توڑنا مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے یہ شرط بھی مان لی۔ 
اس کی ان شرائط کے بارے میں جب میں نے اپنی نئی محبت سے ذکر کیا تو وہ ہنس کے بولی
"وہ چاہے جو بھی کرلے ایک نہ ایک دن طلاق تو اسے ہونی ہی ہے" 
میری بیوی اور میں نے اپنی طلاق کے معاملے سے متعلق کسی اور سے ذکر نہ کیا۔ 
شرط کے مطابق پہلے دن جب مجھے اسے اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے جانا تھا تو وہ لمحات ہم دنوں کے لیے بے حد عجیب تھے۔ ہچکچاتے ہوئے میں نے اسے اٹھایا تو اس نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے میں تالیوں کی ایک گونج ہم دونوں کے کانوں میں پڑی
"پاپا نے ممی کو اٹھایا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہا" ہمارا بیٹا خوشی میں جھوم رہا تھا۔ 
اسکے الفاظوں سے میرے دل میں ایک درد سا اٹھا اور میری بیوی کی کیفیت بھی لگ بھگ میرے جیسی تھی۔ 
"پلیز۔۔۔ ! اسے طلاق کے بارے میں کچھ مت بتانا" وہ آہستگی سے بولی
میں نے جواباً سر ہلایا
اسے دروازے تک چھوڑ کے بعد میں اپنے آفس کی طرف نکل پڑا اور وہ بس سٹاپ کی طرف چل دی۔ 
اگلی صبح اسے اٹھانا میرے لیے قدرے آسان تھا، اور اسکی ہچکچاہٹ میں بھی کمی تھی۔ اس نے اپنا سر میری چھاتی سے لگا لیا۔ ایک عرصے بعد اسکے جسم کی خوشبو میرے حواس سے ٹکرائی۔ میں بغور اسکا جائزہ لینے لگا۔ چہرے کی گہری جھریاں اور سر کے بالوں میں اتری چاندی اس بات کی گواہ تھیں کہ اس نے اس شادی میں گواہ تھیں کہ اس نے اس شادی میں بہت کچھ کھویا ہے۔ 
چار دن مزید گزرے، جب میں نے اسے باہوں میں بھر کے سینے سے لگایا تو ہمارے بیچ کی وہ قربت جو کہیں کھو سی گئی تھی واپس لوٹنے لگی۔ پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ قربت کے وہ جذبات بڑھتے گئے۔ 
لمحے دنوں کو پَر لگا کے اڑا لے گئے اور مہینہ پورا ہوگیا۔ 
اس آخری صبح میں جانے کے لیے تیار ہورہا تھا اور وہ بیڈ پہ کپڑے پھیلائے اس پریشانی میں مبتلا تھی کے آج کونسا لباس پہنے۔ کیوں کہ پرانے سارے لباس اسکے نحیف جسم پہ کھلے ہونے لگے تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ شائد اسی لیے میں اسے آسانی سے اٹھا لیتا تھا۔ اسکی آنکھوں میں امڈتے درد کو دیکھ کے نہ چاہتے ہوئے بھی میں اسکے پاس چلا آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔ 
"پاپا۔۔۔ ! ممی کو باہر گھمانے لے جائیں۔۔۔۔ " ہمارے بیٹے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ اسکے خیال میں اس پل یہ ضروری تھا کہ میں کسی طرح اسکی ماں کا دل بہلاؤں۔ 
میری بیوی بیٹے کی طرف مڑی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ لمحہ مجھے کمزور نہ کردے یہ سوچ کے میں نے اپنا رخ موڑ لیا۔ 
آخری بار میں نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اس نے بھی اپنے بازو میری گردن کے گرد حائل کردیے۔ میں نے اسے مظبوطی سے تھام لیا۔ میری آنکھوں کے سامنے شادی کا وہ دن گردش کرنے لگا جب پہلی بار میں اسے ایسے ہی اٹھا کے اپنے گھر لایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ مرتے دم تک ایسے ہی ہر روز اسے اپنے سینے سے لگا کے رکھوں گا۔ میرے قدم فرش سے شائد جم سے گئے تھے اسی لیے میں بامشکل دروازے تک پہنچا۔ اسے نیچے اتارتے ہوئے میں نے اسکے کان میں سرگوشی کی
"شائد ہمارے درمیان قربت کی کمی تھی" 
وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور میں اسے وہیں چھوڑ کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے بار بار ایک خوف میرے دل میں گھر کررہا تھا کہ کہیں میں کمزور نہ پڑ جاؤں، اپنا فیصلہ بدل نہ دوں۔ میں نے اس گھر کے دروازے پہ بریک لگائی جہاں نئی منزل میرا انتظار کررہی تھی۔ دروازہ کھلا اور وہ مسکراتے ہوئے میرے سامنے آئی
"مجھے معاف کردو۔ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا" میرے منہ سے نکلے یہ الفاظ اسکے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ وہ میرے پاس آئی اور ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے بولی 
"شائد تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا پھر تم مذاق کررہے ہو" 
"نہیں ۔۔۔ ! میں مذاق نہیں کررہا۔ شائد ہماری شادی شدہ زندگی بے رنگ ہوگئی ہے پر میرے دل میں اسکے لیے محبت اب بھی زندہ ہے۔ بس اتنا ہوا ہم ہر وہ چیز بھول گئے جو اس ساتھ کے لیے ضروری تھی۔ دیر سے سہی پر مجھے سب یاد آگیا ہے۔ اور ساتھ نبھانے کا وہ وعدہ بھی یاد ہے جو شادی کے پہلے دن میں نے اس سے کیا تھا" 
نئے ہر بندھن کو توڑ کے بعد میں پرانے بندھن کو دوبارہ جوڑنے کے لیے واپس لوٹا۔ میرے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ تھا جس میں موجود پرچی پہ لکھا تھا
"میں ہر روز ایسے ہی تمہیں اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے آؤں گا۔ صرف موت ہی مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے" 
میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ میرے پاس اپنے بیوی کو دینے کے لیے زندگی کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔ 
میں جب اس سے چند لمحوں کی دوری پہ تھا تبھی زندگی کی ڈور اسکے ہاتھوں سے سرک گئی۔
کئی مہینوں تک کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے وہ ہار چکی تھی۔ نہ اس نے کبھی اپنی تکلیف کا مجھ سے ذکر کیا اور نہ ہی مصروف زندگی نے مجھے اس سے پوچھنے کا موقع دیا۔ جب اسے میری س6ب سے زیادہ ضرورت تھی تب میں کسی اور کے دل میں اپنے لیے محبت کھوج رہا تھا۔ 
وہ جانتی تھی کے اسکے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کے اسکی موت سے قبل طلاق کا اثر ہمارے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرت کا بیج بو دے۔ اس لیے بیتے ایک مہینے میں اس نے بیٹے کے سامنے انتہائی محبت کرنیوالے شوہر کا میرا روپ نقش کردیا۔۔۔ جو حقیقی تو نہیں تھا پر دائمی ضرور بن گیا
یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے بے رنگ رشتوں میں رنگ بھرنے کی بجائے ان سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
کئی بار یہ سمجھنے میں ہم دیر کر دیتے ہیں کہ نئے رشتے قائم کرنا زیادہ صحیح ہے یا پھر پرانے رشتوں میں رنگ بھرے جائیں۔۔۔۔؟ اسکا فیصلہ آپکے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ آپ وقت پہ فیصلہ نہ کر سکیں اور اس تاخیر میں ہاتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خالی رہ جائیں۔ تو دیر مت کیجئے۔
اپنی رائے ضررو دیجئے گا

Quran Ki Taleem



اے ایمان والو!
(۷)

تم اپنے گناہوں کے باعث ربّ کی رحمت سے مایُوس ہو رہے ہو۔۔۔!؟ مگر دیکھو تو، تمہارا ربّ کیا کہتا ہے:

اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿الحدید - ۱۷﴾

جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اسکی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ہم نے تمارے لئے نشانیاں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو۔

تم نے کبھی بنجر زمین دیکھی ہے۔۔۔!؟ کیسی پھٹی ہوئی سی ہوتی ہے نا۔۔۔ پپڑیاں سی جمی ہوئی ہوتی ہیں۔۔۔ اور کتنی سخت۔۔۔ کہ پیر پڑے تو اکڑ سے ٹوٹ جائے۔۔۔ پچھلی آیت میں تمہارا ربّ، دل کے سخت ہونے کا بتا رہا ہے؛ جو کہ کتاب پر عمل نہ کرنے سے ہوا۔۔۔ گویا کہ مردہ۔۔۔ اور پھر فوراً اس سے اگلی ہی آیت میں کہتا ہے؛ کہ جان رکھو، تمہارا ربّ ہی مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔۔۔ اور مردہ اور زندہ میں ایک فرق نرم اور سخت کا بھی ہوتا ہے۔۔۔ اسی طرح دل کے نرم ہونے کا مطلب اس کا زندہ ہونا ہے۔۔۔ دل اگر نرم ہو تو ربّ کا کلام سنتے ہی آنکھیں بھر آتی ہیں۔۔۔ کیُونکہ وہ آیات کو، نشانیوں کو، ریئل ٹائم میں ریلیٹ کرتا ہے۔۔۔ نرم دل میں کلام دھنستا چلا جاتا ہے؛ اور اندر تک چوٹ کرتا ہے۔۔۔ گویا کہ زندہ زمین۔۔۔ بھربھری مٹی۔۔۔ جس میں پاؤں دھرتے ہی دھنس جاتے ہیں۔۔۔ چاہے کم یا زیادہ۔۔۔ کہ یہ تو نرماہٹ پر موقوف ہے نا۔۔۔ اور پھر اسی میں سے سر سبز بیل، بوٹے نکلتے ہیں؛ جو زندگی کی علامت ہوتے ہیں۔۔۔ تمہارا ربّ کہتا ہے کہ میں ہی ہوں جو مردہ زمین کو زندگی کی طرف لوٹاتا ہے۔۔۔ تم مُجھ سے مانگو۔۔۔ جو یہ کر سکتا ہے، وہ کیا تمہارا دل نرم نہیں کر سکتا۔۔۔!؟ ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں۔۔۔ راہ دکھلائیں کسے رہروِ منزل ہی نہیں۔۔۔ مگر تم ہو کہ سمجھتے ہی نہیں۔۔۔ اپنی اسی فسق والی زندگی پر اصرار کئے بیٹھے ہو۔۔۔ پلٹتے ہی نہیں۔۔۔ تم سوچتے نہیں ہو کیا۔۔۔!؟ تم سوچتے کیوں نہیں ہو۔۔۔!؟ اور پھر، بالآخر، تمارے چناؤ کے تمام پروز اینڈ کونز، حسن و قبح، سے آگاہ کرنے کے بعد تمہارا ربّ تُمھیں سیکنڈ پرسن، مُخاطب، کے طور پر کہتا ہے۔۔۔ پروٹاگونِسٹ، مرکزی کردار، ایک دم سے تم ہو جاتے ہو ساری ماقبل کی نشانیوں کے۔۔۔ کہتا ہے؛ کہ اس نے تمہارے لئے دو ٹوک انداز میں بیان کر دیا ہے کہ فاسِقین اور مومنین کے ساتھ قیامت کے دن کیا معاملہ ہوگا۔۔۔ اور دل کے سخت ہونے کی وجہ کیا ہے۔۔۔ تاکہ تم عقل سے کام لو۔۔۔ اس نے تُمھیں گناہ نہیں گنوائے۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔  کہ جب تم گناہ کرنے لگتے ہو؛ تو سب سے پہلا فتوی تمہارا ضمیر ہی لگاتا ہے۔۔۔ اسی وجہ سے تو تمہارے ہاتھ اور آواز کانپ رہے ہوتے ہیں گناہ کرتے ہوئے۔۔۔ اسی باعث تو تم مُڑ مُڑ کر اور دائیں بائیں دیکھتے ہو۔۔۔ کہ کوئی 'دیکھ' تو نہیں رہا۔۔۔ اور پھر شاید یہی سوچ کر گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہو کہ فقط ربّ ہی تو دیکھ رہا ہے۔۔۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ وہ واقعتاً دیکھ رہا ہے۔۔۔ تم خود جانتے ہو، اور بخوبی جانتے ہو کہ گناہ کیا ہے۔۔۔ تُمھیں بتانے کی ازبس کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ کہ تم جانتے ہو۔۔۔ اور تم ہی جانتے ہو۔۔۔!

مگر نہیں۔۔۔ تم نہیں جانتے۔۔۔ کیونکہ تم جاننا ہی نہیں چاہتے۔۔۔!

#اے_ایمان_والو نمبر ۷

جاری۔۔۔ ان شاء اللہ۔۔۔!


Tuesday, 24 January 2017

WOw Amazing 


ﭘﮩﻼ ﺳﺎ ﺣﺎﻝ ﭘﮩﻠﯽ ﺳﯽ ﻭﺣﺸﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﺷﺎﯾﺪ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﺷﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﮩﺮ ﻣﺮﮮ ﺭَﺕ ﺟﮕﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺮ
ﮐﻮﭼﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩِﻟﻮﮞ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﺳﻌﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻮﮒ ﻭﮦ ﺩﻝ ﺩﺍَﺭﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ
ﺑﭽﮭﮍﮮ ﺗﻮ ﺩُﻭﺭ ﺩُﻭﺭ ﺭﻗﺎﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﺷﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻡ ﻭﮦ ﺁﻭﺍﺭﮔﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ
ﺍﺏ ﻧﯿﻢ ﻭَﺍ ﺩﺭﯾﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺴﺮﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﻣِﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﺭﺍﺕ
ﺁﻧﮕﻦ ﮐﻮ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﮦ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﻟَﻮﭨﻨﮯ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ
ﭨﮩﺮﮮ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻭﮦ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﯾﺎﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﯾﺎﺩ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻝ ﺷﮑﻦ ﺳﯽ ﯾﺎﺩ
ﻭﮦ ﯾﺎﺩ ﺍﺏ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻓﺮﺻﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﻧﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﺎﻡ ﺳﻮﺍﻝ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﺍﺏ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﺮﯼ ﮨﻢ ﺭَﮨﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ
ﺍﺏ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﺭﻧﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﻧﮓ ﺗﺮﯼ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ
ﺍﯾﺴﯽ ﮨَﻮﺍ ﭼﻠﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻧﮕﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ
ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺍِﺗّﻔﺎﻕ ﮐﮧ ﭼﺎﮨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﯾﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﯾﺎﺭ ﻭﮦ ﻋﯿّﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﺎﺭ
ﻣِﻠﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﺗﻮ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﻓﺼﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻓﺼﻞ ﻭﮦ ﺟﺎﻥ ﺩﺍﺩﮔﯽ ﮐﯽ ﻓﺼﻞ
ﺑﺎﺩﻝ ﮐﻮ ﯾﺎﮞ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﺭﻏﺒﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﺯﺧﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺯﺧﻢ ﻣﺘﺎﻉِ ﮨﻨﺮ ﮐﺎ ﺯﺧﻢ
ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺭﺯﻭﺋﮯ ﺟﺮﺍﺣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﺳﻨّﺎﭨﺎ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ ﺻﺪﺍ ﻣﺖ ﻟﮕﺎ ﻧﺼﯿﺮ
ﺁﻭﺍﺯ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ
  • Dukhi Shairi
  • بھول جائیں تو آج بہتر ہے
  • سلسلے قرب کے جدائی کے
  • بجھ چکیں خواہشوں کی قندیلیں
  • لٹ چکے شہر شناسائی کے
  • رائیگاں ساعتوں سے کیا لینا
  • زخم ہوں، پھول ہوں، ستارے ہوں
  • جس نے جیسے بھی دن گزارے ہوں
  • زندگی سے شکایتیں کیسی
  • اب نہیں ہیں اگر گلے تھے کبھی
  • بھول جائیں کہ ہم ملے تھے کبھی
  • بھول جائیں کہ جو ہوا سو ہوا
  • اکثر اوقات چاہنے پر بھی
  • فاصلوں میں کمی نہیں ہوتی
  • بعض اوقات بہت چاہنے والوں کی
  • واپسی سے خوشی نہیں ہوتی...!

Very Romantic Urdu POetry 


اے گردشِ حیات! کبھی تو دِکھا وہ نیند
جِس میں شبِ وصال کا نشّہ ہو، وہ نیند
پُھوٹیں گے اب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب؟
آئے گی اب نہ لَوٹ کے آنکھوں میں کیا، وہ نیند
کُچھ رُتجگے سے جاگتی آنکھوں میں رہ گئے
زنجیرِ انتظار کا تھا سلسلہ، وہ نیند
دیکھا کُچھ اس طرح سے، کسی خوش نگاہ نے
رُخصت ہُوا تو ساتھ ہی لیتا گیا وہ، نیند
خوشبو کی طرح مجھ پہ جو بکھری تمام شب
میں اُس کی مست آنکھ سے چُنتا رہا، وہ نیند
گھومی ہے رُتجگوں کے نگر میں تمام عُمر
ہر رہگزارِ درد سے ہے آشنا، وہ نیند
امجدؔ ہماری آنکھ میں لَوٹی نہ پھر کبھی
اُس بے وفا کے ساتھ گئی بے وفا وہ نیند

کمال کی پنجابی شاعری


سورج ٹردا نال برابر،،
دن کیوں لگن سال برابر،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،!!
وتھ تے سجنا وتھ ھو ندی اے،،
بھاویں ھوئے وال برابر......................!!
اکھ دا چانن مر جاوے تے،،
نیلا،، پیلا،، لال برابر.........................!!
جُلی،، منجی،، بھین نوں دے کے،،
ونڈلئے ویراں مال برابر،،،،،،،،،،،،،،،،،،،!!
مرشد جے ناں راضی ھوو ئے،،
مجرا،، ناچ،، دھمال برابر..............!!
اتوں اتوں پردے پاون،،
وچوں سب دے حال برابر،،۔۔۔۔۔۔۔۔!

Hijjar Ki Kaali lambi Raaten
Wasal k khuwab ki ta'hbeeryn hyn


ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺋﻞ۔۔۔۔۔ ﺗﻘﺪﯾﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
ﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﭘﻨﯽ ۔۔۔۔۔۔ﺗﺪﺑﯿﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
ﮨﺠﺮ ﮐﯽ ﮐﺎﻟﯽ ﻟﻤﺒﯽ۔۔۔۔۔۔۔ ﺭﺍﺗﯿﮟ
ﻭﺻﻞ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﺷﯿﺶ ﻣﺤﻞ ﮨﮯ۔ ﭘﯿﺎﺭﮮ
ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ۔۔۔ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
ﻓﺮﺣﺖِ ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺣﺖِ ﺟﺎﮞ ﺑﮭﯽ
ﺣُﺴﻦ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ۔۔۔۔ ﺗﻔﺴﯿﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
ﭘﺎﺱِ ﺍﺩﺏ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺱِ ﻭﻓﺎ۔۔۔ ﺑﮭﯽ
ﻋﺸﻖ ﭘﮧ ﮐﯿﺴﯽ۔۔۔۔ ﺯﻧﺠﯿﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
ﺷﻮﺭﺵِ ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﺿﺒﻂِ ﻓﻐﺎﮞ۔ ﺑﮭﯽ
ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﺰﯾﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﻧﮧ ۔۔۔ﮐﺮﻧﺎ
ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﺍُﻟﭩﯽ۔۔۔۔۔ ﺗﺄﺛﯿﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧﺀِ ﺟﺎﮞ۔۔۔۔ ﺗﻮ
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ۔۔ﺗﺤﺮﯾﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
ﺗﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ۔۔۔۔۔۔۔ ﭼﺎﮨﺎ
ﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﯿﺮﯼ ۔۔ﺗﻘﺼﯿﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
ﭨﻢ ﭨﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ۔۔ﺟُﮕﻨﻮ
ﺭﺍﮦِ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ۔۔۔۔ ﺗﻨﻮﯾﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
ﮐﭽﮫ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩِﮐﮭﺎﺅ ﺷﯿﺦ ﺟﯽ ۔ﻭﺭﻧﮧ
ﺑﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﯾﮧ ﺗﻘﺮﯾﺮﯾﮟ۔۔۔ﮨﯿﮟ
ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﮨﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ
ﮐﯿﺎ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﯽ ۔۔۔ﺗﺪﺑﯿﺮﯾﮟ ﮨﯿﮟ
سر اٹھاؤں تو جان جاتی ھے
اور جھکا لوں تو شان جاتی ھے

خامشی بھی مجھے قبول نہیں
کچھ کہوں تو زبان جاتی ھے

بد دعا تم کسی کی مت لینا
یہ سوئے آسمان جاتی ھے

موت اپنا خراج لینے کو
روح کے درمیان جاتی ھے

نقد لینے کوئی نہیں آتا
قرض دوں تو دکان جاتی ھے

اک تیری شکل دیکھ لینے سے
پورے دن کی تھکان جاتی ھے

میری ماں کا مزاج مت پوچھو
صرف باتوں سے مان جاتی ھے

  • Funny Facts about Women

  • خواتین کے بارے میں سات عجیب حقائق ...

  • 1) خواتین پیسوں کی اہمیت اور قدروقیمت سے بخوبی واقف ہوتی ہیں لہذا بچت پہ یقین رکهتی ہیں.

  • 2) وہ بچت پہ یقین تو رکهتی ہیں مگر کپڑے ہمیشہ اعلی اور مہنگے خریدنا پسند کرتی ہیں.

  • 3) کپڑے تو مہنگے اور اعلی ہی خریدتی ہیں مگر کسی بهی فنکشن میں جانے کیلئے ان کے پاس (انکے بقول) ڈهنگ کے اور موزوں کپڑے نہیں ہوتے.

  • 4)ان کے پاس ڈهنگ کے کپڑے نہیں ہوتے مگر پهر بهی ہمیشہ سلیقے سے تیار ہوتی ہیں اور خوبصورت لگ رہی ہوتی ہیں.

  • 5) خوبصورت لگ رہی ہوتی ہیں مگر پهر بهی مطمئن نہیں ہوتیں .

  • 6) خود اپنی تیاری سے مطمئن نہیں ہوتیں مگر چاہتی ہیں کہ شوہر انکی تعریف کرے.

  • 7) چاہتی ہیں کہ شوہر تعریف کرے اور اگروہ تعریف کردے تو اس پہ یقین بهی نہیں کرتیں :(

MOhabbat kam nahi karna...!!


ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﮒ ﺩﮮ ﺩﯾﻨﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﻡ ﺩﮮ ﺩﯾﻨﺎ
ﻧﮩﯿﮟ ﺻﺒﺢ ﺳُﮩﺎﻧﯽ ﺗﻮ،
ﻏﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺩﮮ ﺩﯾﻨﺎ
ﻣﮕﺮ .....!!!!!
ﺍِﺗﻨﯽ ﮔُﺰﺍﺭِﺵ ﮬﮯ،
ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺎﺭﯾﮏ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﺳﮯ
ﺗُﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻟَﻮ،
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺪﮬﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ
محبت کم نہیں کرنا...!!


IshQ IshQ


عشق مجازی سے عشق حقیقی تک کا سفر مگر کیسے ؟ خصوصی تحریر
دن کے گیارہ بج چکے تھے لیکن موسم ابھی تک سرد تھا۔ یہ 2014کی دوسری صبح تھی اور میں بابا جی کی خانقاہ پر بیٹھا ان کی نصیحتوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ باتوں باتوں میں ہمارا موضوع عشق کی طرف مڑ گیا اور اس کے بعد بابا جی نے میرے سامنے عشق کی گتھیاں سلجھانا شروع کر دیں۔ میں مذہب عشق کا سخت کافر تھا لیکن اس دن کے بعد مجھے احساس ہوا عشق کے بغیر زندگی ادھوری ہے اور جس شخص نے ابھی تک عشق کی گنگا میں ہاتھ نہیں دھوئے اس کی شخصیت ابھی تک نامکمل اور ادھوری ہے۔بابا جی سے ملاقات سے پہلے عشق کے بارے میں میرا نقطہء نظر وہی تھا جو ہم میں سے اسی فیصد لوگوں کا ہے لیکن اس دن کے بعد مجھے پتا چلا شاید اسی فیصد لوگ عشق کو غلط رنگ میں دیکھتے ہیں اور بلا وجہ عشق سے نفرت کرتے ہیں۔ ہم نے عشق کو صرف عورت ذات تک محدود کر دیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں عشق صرف جنس مخالف کے لیے رونے دھونے اور جان کی بازی لگانے کا نام ہے۔ اور اگر کوئی جنس مخالف کو پانے کے لیے مجنون، پاگل یا دیوانہ بن جائے یا خود کشی کر لے ہم اسے عشق کی معراج سمجھتے ہیں جبکہ یہ عشق کی کھلی توہین ہے۔ میں نے پوچھا ”بابا جی عشق کیا ہے “بابا جی نے ماہر فلسفی کی طرح نظریں گھمائیں اور میری طرف دیکھ کر بولے ”عشق کمال انسانیت، حاصل مذہب، ایک بلند ترین تجزیہ اور انسانی تلاش کا نام ہے۔ انسان کا دل اگر عشق سے خالی ہو تو وہ انسان نہیں پتھر کا بت ہے، عشق انسان سے خدا نہیں چھڑواتا بلکہ انسان کو خدا کے قریب کر دیتا ہے اور عشق ایک تاریک جنگل کی طرح ہوتا ہے جو ایک دفعہ اس جنگل میں چلا جائے وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ عشق بے لوث ہوتا ہے اور طبیعت میں شائستگی پیدا کر تا ہے، عشق صندل کی لکڑی کی طرح سلگتے رہنے کا نام ہے اور عشق کسی کو پانے اور کھونے سے بہت ماوراء ہوتا ہے۔ عشق ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور عشق ہر کسی کی آہ اور دکھ میں اپنا دکھ اور اپنی آہ محسوس کرتا ہے، جو خود غرض ہو وہ عشق نہیں ہوتا اور عشق انسان کو خلق عظیم کا پیکر بنا دیتا ہے “میں نے پوچھا ”بابا جی عشق حقیقی اور عشق مجازی کی حقیقت کیا ہے“ بابا جی نے گہری سانس لی اور سرد آہ بھر کر بولے ”عشق, عشق ہوتا ہے خواہ حقیقی ہو یا مجازی، یہ خوش نصیبوں کو ہوتا ہے اور اگر کوئی سمجھنے والا ہو تو عشق اللہ کی بہت بڑی توفیق ہوتی ہے گناہ نہیں۔ عشق بندے کو رب کے قریب کر دیتا ہے اور دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھی بندے کو رب کے قریب کرنے آئے تھے اب اس سے تم عشق کے مقام اور مرتبے کا اندازہ کر سکتے ہو “ بابا جی کے اس جواب نے مجھے تذبذب میں ڈال دیا تھا میں رکے بغیر بولا ”بابا جی عشق حقیقی تو بجا مگر عشق مجازی کو ہم کیسے اللہ کی توفیق کہہ سکتے ہیں کیا یہ کھلا گناہ نہیں “بابا جی نے ناصحانہ انداز میں بولنا شروع کیا ”عشق مجازی عشق حقیقی کی منزل آسان کر دیتا ہے اور عشق مجازی کے دریا میں بہنے والا نافرمان کبھی نہ کبھی عشق حقیقی کے سمندر میں اتر جاتا ہے اور پھر اس کے اور رب کے درمیان صرف ایک باریک سا پردہ حائل ہوتا ہے، وہ پہلی ہی جست میں عشق حقیقی کے اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں صوفیاء بیسیوں سالوں کی محنت، ریاضت اور مشقت کے بعد پہنچتے ہیں“
مجھے بات پوری طرح سمجھ نہیں آئی تھی میں نے بابا جی سے وضاحت چاہی انہوں نے اپنے دو مریدوں کی طرف اشارہ کیا اور بولے ”یہ پہلا مرید دس سال سے میری خدمت میں ہے لیکن یہ ابھی تک تصوف کی دوسری سیڑھی پر کھڑا ہے لیکن جو دوسرا مرید ہے اس کو اس خانقاہ میں آئے ہوئے صرف چھ ماہ ہوئے ہیں لیکن اسے میں نے اپنی خلافت عطا کر دی ہے“ دس سال اور چھ ماہ میں زمین و آسمان کا فرق تھا، میرے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھ کر بابا جی خود ہی گویا ہوئے ”اس دوسرے مرید کی کہانی بڑی عجیب ہے۔ یہ آج سے دس سال پہلے لاہور گیا اور وہاں لیکچرار کی نوکری شروع کر دی۔ نوکری کے دوران ہی اسے عشق ہو گیا اور دونوں نے اکھٹے جینے مرنے کی قسمیں کھا لیں، کچھ وقت تک سب ٹھیک چلتا رہا لیکن دو سال بعد کہانی ایک سو اسی زاویے الٹ چلنا شروع ہو گئی ۔محبوب نے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا لیکن اس کے لیے یہ بات ناقابل برداشت تھی، اس نے لاکھ منانے کی کو شش کی مگر نتیجہ خاک نکلا۔ یہ کئی کئی دن بھوکا پیاسا رہتا لیکن محبوب کو ترس نہ آیا۔ ایک دن سخت سردی کی رات تھی یہ گھر سے نکلا اور محبوب کی تلاش میں آہیں بھرنے لگا، اس کا محبوب لاہور کے ایک نامور ہسپتال میں ڈاکٹر تھا۔ رات کا وقت، دسمبر کی سردی اور یہ سوائے تن کے کپڑوں کے ہر چیز سے خالی۔ پوچھ گچھ کرتا ہسپتال پہنچ گیا، محبوب پر نظر پڑتے ہی بچوں کی طرح رونے لگا کہ مجھے بس یہی چاہئے، پورے وارڈ میں کھلبلی مچ گئی، ارد گرد سے لوگ اکھٹے ہو گئے لیکن محبوب کو پھر بھی ترس نہ آیا اور اس نے سنی ان سنی کر دی۔ یہ غش کھا کر گر پڑا، صبح ہوش آیا تو اسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں داخل تھا۔ اس کے ساتھ والے بیڈ پر میرے کسی مرید کا کوئی رشتہ دار تھا اس نے اسے میرا ایڈریس دے دیا، یہ ہسپتال سے سیدھا میرے پاس چلا آیا، میں نے اسے خانقاہ میں رہنے کی اجازت دے دی، پہلے یہ ایک ہفتہ پریشان رہا لیکن پھر اس پر خانقاہ کا رنگ جمنا شروع ہو گیا۔ دو ہفتے بعد یہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے یہاں عجیب سی خوشی محسوس ہونے لگی ہے، جب میں نماز پڑھتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں اللہ سے باتیں کر رہا ہوں اور جب ذکر کی محفل ہوتی ہے تو جو حال اس پر طاری ہوتا ہے وہ اب تک بڑوں بڑوں کو حاصل نہیں ہوا“ لیکن باباجی آپ نے ایک عورت کے عاشق کو اتنی جلدی خلافت کیسے دے دی “بابا جی ہنستے ہو ئے بولے ”یہی وہ نکتہ ہے جو میں تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں۔ میں نے پہلے دو ماہ میں اس کے ذہن سے اس عورت کو نکال کر اللہ کو بٹھا دیا، میں نے اس کی ساری توجہ اس عورت سے ہٹا کر اللہ کی طرف موڑ دی اور پھر اس دن کے بعد اس کی قسمت بدلنا شروع ہو گئی۔ عشق مجازی نے اسے رونا دھونا، محبوب سے باتیں کرنا، محبوب کو منانا اور کبھی محبوب کو مناتے ہو ئے خود روٹھ جانا یہ سب سکھا دیا تھا۔ یہ عشق کے اسرار و رموز کو جانتا تھا اور یہ جانتا تھا کہ عشق میں معشوق کی رضا کے لیے سب کچھ چھوڑنا پڑتا ہے اس دن سے اس نے گناہوں سے توبہ کی، اللہ سے لو لگائی اور خانقاہ میں ڈیرے ڈال کر بیٹھ گیا۔ یہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس کے سامنے روتا اور اسے مناتا، اور اب یہ اس طرح محبوب سے راز و نیاز کرتا ہے کہ مجھے بھی اس پر رشک آنے لگتا ہے۔ دو ہفتے پہلے میں تہجد کے لیے اٹھا، دیکھا یہ جائے نماز پر بیٹھا دعا مانگ رہا تھا، میں نے غور سے سنا تو کہہ رہا تھا ”یا اللہ تجھے موسیٰ اور چرواہے کا قصہ تو یاد ہے نا؟ موسیٰ کے دور کا وہ چرواہا جو تجھ سے بہت پیار کر تا تھا اور ایک دفعہ وہ آپ سے دعا مانگتے ہوئے کہ رہا تھا اے اللہ کاش تو میرے پاس ہوتا ،میں تیرے بالوں میں تیل لگاتا، تجھے کنگھی کرتا، تیرے پاوٴں دھوتا لیکن موسیٰ نے پیچھے سے زور سے تھپڑ مارا کہ نادان تو کیا کہہ رہا ہے۔ تو یااللہ تو نے فورا جبرائیل کو بھیج دیا تھا کہ موسیٰ تم نے اسے کیوں مارا، یہ مجھ سے پیار کی باتیں کر رہا تھا، یہ مجھ سے لاڈ کر رہا تھا، مجھ سے مانگ رہا تھا تم نے اسے کیوں مارا، اے اللہ میں بھی اس چرواہے کی طرح آپ سے پیار کرتا ہوں اور آپ کا ہونا چاہتا ہوں، اس کے بعد مجھ میں مزید سننے کی سکت نہ تھی اور میں نم آنکھوں کے ساتھ اپنے حجرے میں چلا گیا “بابا جی کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار ظاہر ہو رہے تھے، میں نے دوسرے مرید کے متعلق پوچھا جو پچھلے دس سالوں سے تصوف کے دوسرے زینے پر کھڑا تھا۔ بابا جی نے مختصر جواب دیا ”یہ بیچارہ عشق کے اسرار و رموز سے ناواقف ہے، اس کا دل عشق جیسے لطیف جذبات سے خالی ہے، اسے محبوب کے لیے رونا اور اسے منانا بھی نہیں آتا، اس کی دعائیں بے اثر ہیں، اسے مانگنا بھی نہیں آتا، یہ محبوب کے لیے بے چین ہونا بھی نہیں جانتا اور یہ محبوب کو پانے اور منانے کے لیئے کوئی حیلے بہانے بھی نہیں کرتا۔ یہ عبادت تو کرتا ہے، نمازیں تو پڑھتا ہے، روزے تو رکھتا ہے، نفل تو پڑھتا ہے، تسبیحات تو کرتا ہے لیکن اس کی یہ ساری عبادت خشک ہوتی ہے، اس میں عشق کا تڑکا نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے یہ ابھی تک تصوف کی دوسری سیڑھی پر کھڑا ہے“ نماز کا وقت ہو چکا تھا، میں نے مزید گفتگو مناسب نہ سمجھی، بابا جی اٹھے، سلام کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا، چپکے سے اپنے حجرے کی جانب چل دیئے اور میں جنوری کی میٹھی دھوپ میں بیٹھا عشق کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔
طالب دعا
جرمن ٹیچر

  • ...دھوبی کا بیٹا....

حضرت نظام الدین اولیاءؒ اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے
"ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا،
ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا"۔
اتنا فرما کر پھر غش کھا جاتے.
ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا:
"حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟"
آپؒ نے فرمایا:
"ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھے
اور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر استری کرکے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے،
ان کا ایک بیٹا بھی تھا.
جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدین کا ھاتھ بٹانے لگا،
کپڑ وں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی تھے،
جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا.
محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد
اس کے اطوار تبدیل ہو گئے،
وہ شہزادی کے کپڑے الگ کرتا،
انہیں خوب اچھی طرح دھوتا،
انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کرکے رکھتا.
سلسلہ چلتا رہا.
آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا
اور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہ
یہ تو لگتا ہے سارے خاندان کو مروائے گا،
یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے،
والد نے بیٹے کے کپڑ ے دھونے پر پابندی لگا دی،
ادھر جب تک لڑکا محبت کے زیر اثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا،
محبت کا بخار نکلتا رہتا تھا،
مگر
جب وہ اس خدمت سے ہٹایا گیا
تو لڑکا بیمار پڑ گیا
اور چند دن کے بعد فوت ہو گیا۔
ادھر کپڑوں کی دھلائی اور تہہ بندی کا انداز بدلا
تو شہزادی نے دھوبن کو بلا بھیجا،
اور اس سے پوچھا کہ
میرے کپڑے کون دھوتا ہے؟
دھوبن نے جواب دیا:
شہزادی عالیہ میں دھوتی ہوں،
شہزادی نے کہا:
پہلے کون دھوتا تھا؟
دھوبن نے کہا:
میں ہی دھوتی تھی.
شہزادی نے اسے کہا:
یہ کپڑا تہہ کرو.
اب دھوبن سے ویسے تہہ نہیں ہوتا تھا.
شہزادی نے اسے ڈانٹا:
تم جھوٹ بولتی ہو،
سچ سچ بتاؤ ورنہ سزا ملے گی.
دھوبن کے سامنے کوئی دوسرا رستہ بھی نہیں تھا.
کچھ دل بھی غم سے بھرا ہوا تھا،
وہ زار و قطار رونے لگ گئی،
اور سارا ماجرا شہزادی سے کہہ دیا.
شہزادی یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آ گئی۔
پھر اس نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا
اور شاہی بگھی میں سوار ہو کر
پھولوں کا ٹوکرا بھر کر لائی،
اور مقتول محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیے.
زندگی بھر اس کا یہ معمول رہا
کہ وہ اس دھوبی کے بچے کی برسی پر
اس کی قبر پر پھول چڑھانے ضرور آتی۔
یہ بات سنانے کے بعد حضرت کہتے:
"اگر ایک انسان سے بن دیکھے محبت ہوسکتی ہے
تو بھلا اللہ سے بن دیکھے محبت کیوں نہیں ہو سکتی؟"
"ایک انسان سے محبت اگر انسان کے مزاج میں تبدیلی لا سکتی ہے
اور وہ اپنی پوری صلاحیت اور محبت اس کے کپڑ ے دھونے میں بروئےکار لا سکتا ہے
تو کیا ہم لوگ اللہ سے اپنی محبت کو اس کی نماز پڑھنے میں اسی طرح دل وجان سے نہیں استعمال کر سکتے؟"
مگر ہم بوجھ اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر شہزادی محبت سے تہہ شدہ کپڑوں کے انداز کو پہچان سکتی ہے،
تو کیا رب کریم بھی محبت سے پڑھی گئی نماز اور پیچھا چھڑانے والی نماز کو سمجھنے سے عاجز ہے؟"
حضرت نظام الدین اولیاءؒ پھر فرماتے:
"وہ دھوبی کا بچہ اس وجہ سے کامیاب ہے
کہ اس کی محبت کو قبول کر لیا گیا.
جبکہ ہمارے انجام کا کوئی پتہ نہیں،
قبول ہوگی یا منہ پر ماردی جائے گی...
اللہ جس طرح ایمان اور نماز روزے کا مطالبہ کرتا ہے،
اسی طرح محبت کا تقاضا بھی کرتا ہے.
یہ کوئی مستحب نہیں فرض ہے.
مگر ہم غافل ہیں."
پھر فرماتے:
"اللہ کی قسم
اگر یہ نمازیں نہ ہوتیں
تو اللہ سے محبت کرنے والوں کے دل اسی طرح پھٹ جاتے
جس طرح دھوبی کے بچے کا دل پھٹ گیا تھا.
یہ ساری ساری رات کی نماز ایسے ہی نہیں پڑھی جاتی.
کوئی جذبہ کھڑا رکھتا ہے."
آپ فرماتے:
"یہ نسخہ اللہ پاک نے اپنے نبی کے دل کی حالت دیکھ کر بتایا تھا
کہ آپ نماز پڑھا کیجئے،
اور رات بھر ہماری باتیں دہراتے رھا کیجئے،
آرام ملتا رہے گا"
Heart Touching Poetry


  • چل عشق قلندر بنا مینوں 
  • کوئی اپنا رنگ چڑا مینوں 

  • میں بدصورت میں کم عقل 
  • میں اندر یار وسا بیٹھاں

  • میرا گھر گھر چرچا پاگل دا
  • چل تو وی پاگل بنا مینوں 

  • اک میں کملا دوجا یار کمال
  • نِت کملے نے میرے نین

  • اکھ کھولاں تے یار پاواں
  • کوئی انج داجادو سکھا مینوں

  • میرے روپ دے وچ اک روپ ہوئے
  • لوکی دین نفیس مِثل میری

  • اے پاگل تن نوں لا بیٹھا
  • کوئی انج دا رُوپ چڑا مینوں

  • جدوں وقت میرا اخیر ہوئے 
  • وچ پیراں میرے زنجیر ہوئے

  • نچ نچ کہ یار منا لواں 
  • رَبا انج دی موت ویکھا مینوں

  • چل عشق قلندر بنا مینوں 
  • اک وار تے یار ملا مینوں۔۔
Decent Joke


  • تین دوستوں نے جن کی شادی نہیں ہورہی تھی ملک کے 
  • بادشاہ کو درخواست پیش کی کہ انکی شادی کروا دی جائے بادشاہ نے تنیوں کو بلالیا اور کہا کہ میں تمہاری شادی کروا دیتا ہوں.....
  • لیکن ایک شرط ہوگی تم لوگوں کو ایک آزمائش سے گذرنا پڑے گا ۔
  • جو کامیاب ہوگیا اس کی شادی ایک خوبصورت لڑکی سے کروادی جائے گی
  • اور جو ناکام ہوا اس کی شادی کسی بدصورت اور لڑاکا لڑکی سے ہوگی
  • انہوں نے شرط منظور کرلی۔
  • انہیں ایک تاریک کمرے میں اکٹھا رکھا گیا۔ جہاں مکمل اندھیرا تھا۔ اور بتایا گیا کہ یہاں ایک ماہ تک رہنا ہے۔
  • یہیں سب کچھ کھانا پینا ، سونا جاگنا ہوگا۔
  • اور کمرے میں جگہ جگہ پاپڑ رکھے گئے ہیں ان سے بچنا ہے کہ پاوں کے نیچےنہ آجائے۔ جس کا پاوں پاپڑ پر آگیا ۔ اسکی شادی بدصورت لڑکی سے کردی جائے گی
  • اب جناب تمام دوست اس آزمائش سے صحیح سلامت گذرنے کیلئے مکمل احتیاط سے رہنے لگے
  • 9 دن خیریت سے گذرگئے ۔ دسویں دن ایک دوست کا پاوں پاپڑ پر آگیا۔ فورا اسے سپاہی کمرے سے نکال کر لے گئے اور اسکی شادی بدصورت لڑکی سے کردی گئی ۔
  • اب دو دوست خوش ہوئے کہ اب جگہ کھلی ہو گئی ہے۔ بیسویں دن ایک اور دوست کا پاوں پاپڑ پر آگیا
  • اور سپاہی اسے بھی روتا دھوتا لے گئے۔
  • اب تیسرا اکیلا رہ گیا۔ اس نے باقی دن خیریت سے گذار لیے
  • آزمائش پوری ہونے پر اسکی شادی ایک خوبصورت لڑکی سے کردی گئی اور وہ خوشی خوشی رہنے لگا
  • ایک دن اس نے اپنی بیوی سے کہا
  • ” تمھیں پتہ ہے میں تمھیں حاصل کرنے کیلئے کتنی تکلیف دہ آزمائش سے گذرا ہوں- ” اور اسکے بعد مکمل تفصیل سمجھائی ۔
  • پھر پوچھا ” اچھا تم بتاو۔ تم نے مجھے حاصل کرنے کیلئے کیا کیا؟”
  • بیوی نے ٹھنڈی سانس بھری اورکہا
  • .
  • ..
  • .
  • ” ہم بھی تین سہیلیاں ایک کمرے میں بند تھیں۔ پھر ایک دن میرا پاؤں پاپڑ پر آگیا"


  • کیا ﺁﭖ *'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ ''* ﮐﺎ ﭘﺲ ﻣﻨﻈﺮ ﺟﺎﻧﺘـے ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘـے ﮨﯿﮟ؟ -

'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺍﮨﻢ ﺩﻋﺎ ھــے ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺯ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩہرﺍﺗـے ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺠﮭـے ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﭘﮕﮭﻞ ﮔﯿﺎ-
ﺩﺭﺣﻘﯿﺖ '' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻟﻤﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮧ ھــے ﺟﻮ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﮨﻮﺍ -.
ﺟﺐ حضرت محمد ﷺ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ' ﺍَﺳَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﯿﮑُﻢ ' ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ - ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﮐﯿﺴـے ﺳﻼﻡ ﮐﮩﮯ ﺟﻮ ﺑﺬﺍﺕ ﺧﻮﺩ ﭘﯿﮑﺮ ﺳﻼﻡ ھــے ؟
ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺳﻼﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﻼﻣﺘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ھــے
ﻟﮩﺬﺍ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧـے ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :-

*'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕ ُﻟِﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟﺼَّﻠَﻮَﺍﺕُ ﻭَﺍﻟﻄَّﻴِّﺒَﺎﺕُ "*

ﺗﻤﺎﻡ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻟﯽ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﺍﻟﻠﮧ کیلئـے ﮨﯿﮟ
ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧـے ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﯿﺎ :-

*ﺍﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲُّ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛَﺎﺗُﻪُ*

ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺳﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮐﺘﯿﮟ ﮨﻮﮞ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧـے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :-

*ﺍﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻨَﺎ ﻭَﻋَﻠَﻰ ﻋِﺒَﺎﺩِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﻴﻦ*
َ
ﺳﻼﻡ ﮨﻮ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ
ﻧﻮﭦ:- آپ ﷺ ﻧـے " ﮨﻤﯿﮟ " ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﺎ , (ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ)
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺒﯿﺐ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﯾﮧ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﺳﻦ ﮐﺮﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧـے ﮐﮩﺎ

*ﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥْ ﻟَﺎ ﺇِﻟَﻪَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻭَﺣْﺪَﻩُ ﻟَﺎ ﺷَﺮِﻳﻚَ ﻟَﻪُ ﻭَﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥَّ ﻣُﺤَﻤَّﺪًﺍ ﻋَﺒْﺪُﻩُ ﻭَﺭَﺳُﻮﻟُﻪ*

ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ, ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ !!
ﺍﺱ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺗﯽ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﻮ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﯿﺠﺌـے ۔۔۔۔۔ ﺗﺨﯿﻞ ﮐﯿﺠﺌـے ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺟﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺟﺰﺍﮐﻢ ﺍﻟﻠﮧ خیراً و کثیراً
بحوالہ (بخاری ومسلم) مظاہر حق جدید, شرح مشکوۃ شریف, باب: تشہد کا بیان، صفحہ 588 تا 593
امی کی پسند
ایک پرانی تحریر

امی کو کیا پسند ہے؟؟؟ 😪😪
میں چار سال کے بعد واپس اپنے وطن لوٹ رہا تھا ۔۔۔۔
پچھلے چار سال سے میں دبئی میں جاب کر رہا تھا اور اب میرا کنٹریکٹ ختم ہو چکا تھا اور میں بس وطن واپسی کی تیاریاں کر رہا تھا ۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی میں گھر والوں کے لئے شاپنگ کر کے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔
پچھلے چار سالوں میں جاب کے علاوہ کچھ چھوٹے موٹے کام کر کے میں نے کچھ پیسے آج کے دن کے لئے ہی جوڑ رکھے تھے کہ جب وطن واپسی جاؤں گا تو گھر والوں کے لئے تحائف لیتا جاؤں گا ۔۔۔۔
چھوٹے بھائی کو مہنگے موبائل رکھنے کا بہت شوق تھا سو اس کے لئے ایک آئی فون لیا تھا .
چھوٹی بہن بہت عرصے سے ٹیبلیٹ کی فرمائش کر رہی تھی اس کے لئے ایک اچھا سا ٹیبلیٹ لیا
دوسری دو بہنوں کے لئے خوبصورت سی گھڑیاں اور کپڑوں کے کچھ جوڑے لئے ابو کے لئے ایک سمارٹ فون اور چند قیمتی پرفیوم لئے
لیکن جب امی کے لئے تحفہ لینے کی باری آئی تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ امی کو کیا پسند ہے ؟؟
اتنے سالوں میں کبھی امی کو مہنگے کپڑے پہنے نہیں دیکھا ، گھڑی کا تو شوق ہی نہیں رکھتی امی چوڑیاں ، بالیاں یا انگوٹھی وغیرہ ان سب سے تو جیسے چڑ سی تھی امی کو ۔۔۔
جب کبھی جاتیں بازار تو بہنوں کے لئے تو لے لیتیں لیکن اپنی باری آنے پر ہمیشہ یہی کہتیں کہ میں نے کیا کرنا ہے پہن کر مجھے یہ سب چونچلا پن لگتا ہے بھئی۔۔۔۔ تم ہی پہنو یہ سب میں تو اس سب کے بغیر ہی اچھی ۔۔۔
یہی حال کپڑوں کا تھا ایک بار کوئی ایک آدھا جوڑا لے لیتیں تو بس پھر اگلا کچھ عرصہ یہی سننے کو ملتا کہ ابھی تو لئے ہیں میں نے اتنے ’’ڈھیر کپڑے ‘‘
تم ہی لو اپنے لئے میرے پاس تو پہلے ہی ’’بہت ‘‘ ہیں ۔۔۔۔
میں سوچ سوچ کر تھک گیا لیکن امی کی کوئی ایسی بات ذہن میں نا آ سکی کہ جس سے ان کی پسند کا کچھ پتا لگتا ۔۔۔۔
میں ابھی اسی سوچ میں تھا کہ امی کے لئے کیا لوں کہ گھر سے کال آ گئی ۔۔۔۔
چھوٹی بہن نے فون کیا تھا ۔۔۔ چھٹتے ہی کہنے لگی کہ بھائی آپ اتنے عرصے بعد واپس آرہے ہیں تو آتے وقت میرے لئے دبئی سے ایک اچھا سے ٹیبلیٹ ضرور لانا ۔۔۔۔
میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی کیونکہ میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میرے بہن بھائیوں کو کیا پسند ہے ۔۔۔
لیکن میں انہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا سو بولا کہ ’’ ابھی تو پیکنگ چل رہی ہے اگر وقت ملا تو دیکھوں گا ‘‘ ۔۔۔
باقی بہن بھائی بھی فوراً جمع ہو گئے اور اپنی فرمائشیں کرنے لگے اور میں بس مسکراتا رہا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے تھے وہ تو میں لے ہی چکا تھا ۔۔۔۔
’’ اچھا امی کہاں ہیں امی سے بات کراؤ میری ‘ میں نے امی سے خود ہی ان کی پسند کا پوچھنے کا ارادہ کیا کہ مجھے بہت سوچنے کے بعد بھی امی کی کوئی پسند ذہن میں نا آ سکی تھی ۔۔۔۔
کچھ دیر میں امی آ گئیں لائن پر حال احوال کے بعد میں نے پوچھا کہ امی آپ کے لئے کیا لاؤں دبئی سے ؟؟
اپنی پسند کی کوئی چیز بتائیں۔۔۔۔۔
امی نے کہا ’’ او چھوڑ ان باتوں کو یہ بتا کہ کب پہنچ رہا ہے میرا بچہ میرے پاس ؟؟؟ ‘‘
میں امی کی پسند سننے کا منتظر تھا ۔۔۔۔ نجانے کیوں یہ سن کر اچانک میری آنکھوں سے دو آنسو نکلے اور میرے گالوں پھسلتے چلے گئے ۔۔۔۔۔۔
میں جان چکا تھا کہ امی کو کیا پسند ہے !